تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 113
تاریخ احمدیت۔جلد 25 113 سعادت سمجھتا ہے اور وقت آنے پر کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔انشاء اللہ تعالیٰ۔سال 1969ء اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس قرارداد کی نقول صدر مملکت پاکستان جناب آغا محمد يحي 166 خان، شاہ فیصل ، شاه حسین صدر ناصر ، حضرت امام جماعت احمدیہ اور پریس کو بھجوائی جائیں۔ایسی ہی پُر زور قراردادیں پاکستان کی دیگر مشہور احمدی جماعتوں مثلاً لا ہور، شیخوپورہ، فیصل آباد، جہلم، کوئٹہ، پشاور، بہاولپور اور پسرور وغیرہ نے بھی پاس کیس جو ان کے جوش ملی، جذبہ ایثار اور 112 جانفروشی کی آئینہ دار تھیں۔بھارت کی احمدی جماعتوں کا رد عمل بھی نہایت شدید تھا چنانچہ اخبار بدر قادیان نے ۴ ستمبر ۱۹۶۹ء کی اشاعت میں قبلہ اوّل۔مسجد اقصیٰ کی ناقابل برداشت بے حرمتی“ کے عنوان سے ایک پر زور ادار یہ سپرد قلم کیا نیز ا استمبر ۱۹۶۹ء کے پرچہ میں اس کے پہلے صفحہ پر صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ناظر دعوت و تبلیغ کا ایک خصوصی مضمون شائع کیا جس میں صاحبزادہ صاحب نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ کی آتش زنی اسرائیل کے سوچے سمجھے منصوبہ کی ایک تخریبی کڑی ہے۔نیز لکھا جہاں مسلمانوں کے ہر فرقے نے اسرائیل کے اس وحشیانہ اور گھناؤنے فعل پر نفرت کا اظہار کیا ہے جماعت احمدیہ کا ہر فرد بھی انتہائی دُکھے ہوئے دل کے ساتھ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور آتش زنی کے المناک واقعہ پر دکھ، تکلیف اور غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے۔اگر چہ ہم ہڑتالوں، نظم ونسق برہم کر دینے والی کارروائیوں سے دور رہتے ہیں۔لیکن کسی صورت میں بیت المقدس اور عربوں کے کھوئے ہوئے علاقوں کے پھر حاصل کرنے اور فلسطین کی واپسی کے معاملہ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں۔ہم عربوں اور مسلمانوں کی ایسے حوادث اور مصائب کے وقت میں مدد اس طرح سے کرتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے حضور جھکتے ہیں کہ وہ ملائک کی فوج سے ہمارے عرب بھائیوں اور عالم اسلام کی مددفرمائے۔لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب اور ان کی بیگم صاحبہ کا حادثہ شہادت اس سال کا نہایت اہم اور المناک واقعہ یہ ہے کہ پاکستان کے نامور جرنیل اور جنگ ۱۹۶۵ء کے ہیرو اور معروف احمدی لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین ملک صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ سعیدہ بیگم صاحبہ ۲۲ را گست ۱۹۶۹ء کو ڈیڑھ بجے کا ر کے ایک حادثہ میں شہید ہو گئے۔یہ حادثہ انقرہ (ترکی) سے پچاس میل کے فاصلہ پر پیش آیا جہاں آپ سینٹو میں پاکستان کے مستقل نمائندہ کی حیثیت سے مقیم