تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 112
تاریخ احمدیت۔جلد 25 112 سال 1969ء ساتھ بھر پور عملی تعاون کرے گی۔اسی روز جماعت احمدیہ کراچی کی متعدد شاخوں نے اپنے خصوصی اجلاسوں میں قراردادیں منظور کیں جن میں یہود کی طرف سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور آتش زنی کے واقعہ کی پُر زور مذمت کی گئی اور عالم اسلام کے لئے یہود کے خلاف عملی اقدام کو نا گزیر قرار دیا گیا تا کہ یہود کے خطرناک عزائم کا سد باب ہو سکے۔نیز حکومت پاکستان سے عظیم اسلامی سلطنت ہونے کے لحاظ سے اس کے جواب میں مؤثر اور نمایاں کردار ادا کرنے کی درخواست کی گئی اور یہ کہ جماعت احمدیہ کے افراد مسجد اقصی کی تقدیس و تحریم کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔110 109 احمد یہ مشن انگلستان کے انچارج اور امام مسجد فضل لندن بشیر احمد خان صاحب رفیق نے بذریعہ تارلندن میں متعین اسرائیلی سفیر کی معرفت حکومت اسرائیل سے احتجاج کیا اور کہا کہ اس سانحہ سے جماعت احمدیہ کے تمام افراد کو سخت صدمہ پہنچا ہے۔ہمیں اس واقعہ پر شدید تشویش ہے اور ہم حکومت اسرائیل سے پُر زور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ بیت المقدس میں واقع تمام مقدس اسلامی مقامات کی حفاظت کے لئے مضبوط اور موثر اقدامات کرے۔جماعت احمدیہ کے ترجمان اخبار الفضل نے اس حادثہ روح فرسا پر احتجاجی ادار یہ سپرد قلم کیا اور مرکز احمدیت ربوہ کے ایک غیر معمولی اجلاس عام میں حسب ذیل قرار داد متفقہ طور پر پاس کی گئی:۔جماعت احمد یہ ربوہ کا یہ غیر معمولی اجتماع قبلہ اول مسجد اقصیٰ کے نذرآتش کرنے کی شرمناک، نا پاک اور مکارانہ صیہونی جسارت پر انتہائی رنج و غم کا اظہار کرتا، اسے شدید نفرت و حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ، اس کی پر زور مذمت کرتا اور اس تاریخی اور مقدس یاد گار کی بے حرمتی کو تمام عالم اسلام کے لئے ایک چیلنج تصور کرتا ہے۔یہودی عزائم اس سے بھی خطرناک ہیں۔وہ چاہتے ہیں کہ قبلہ اول کو ہیکل سلیمانی میں تبدیل کر کے مکہ اور مدینہ پر تغلب حاصل کریں۔پس ہمارے سامنے سوال اب صرف مسجد اقصیٰ کا نہیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کا بھی ہے۔اس لحاظ سے مسجد اقصیٰ کی آتش زنی کو ہم یہود کی پُر فریب اور عیارانہ چالوں کا ابتدائی قدم سمجھتے ہیں۔ان حالات میں اسرائیلی جارحیت کے ہر اقدام کو ناکام بنانے اور بیت المقدس کو اس کے چنگل سے آزاد کرانے کے لئے عالمی سطح پر ایک مضبوط اور متحدہ اسلامی محاذ کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ہم جناب صدر مملکت پاکستان کو یقین دلاتے ہیں کہ جماعت احمد یہ ربوہ کا ہر فرد اس مقدس راہ میں اپنی جان و مال و آبرو حاضر کرنا موجب فخر و