تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 114 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 114

تاریخ احمدیت۔جلد 25 114 سال 1969ء تھے۔ترکی سے ان کی نعشوں کے تابوت پورے فوجی اعزاز کے ساتھ ۲۵ /اگست کو ترک فضائیہ کے ایک خاص طیارہ میں پاکستان روانہ کر دیئے گئے۔ترک فوج کی ایک گارڈ طیارہ کے ہمراہ پاکستان آئی۔یہ طیارہ ۲۶ کی صبح کو کراچی پہنچا، جہاں پاکستانی فوج کے ایک دستہ نے تابوت کو سلامی دی اور پھر بذریعہ طیارہ نو بجے انہیں راولپنڈی پہنچا دیا گیا۔تابوت جب چکلالہ کے ہوائی اڈہ پر اتارے گئے تو اس وقت بڑی فوج کے چیف آف سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عبد الحمید خان، صدر پاکستان کے ملٹری سیکرٹری، بحریہ کے سربراہ وائس ایڈمرل ایس ایم احسن، ہوائی فوج کے نامز دسر براہ ائر وائس مارشل اے رحیم اور ترکی کے فوجی نمائندے ہوائی اڈے پر موجود تھے۔تابوتوں پر پھولوں کی چادریں چڑھائی گئیں اور فوج کے ایک دستہ نے انہیں سلامی پیش کی۔ترکی اور پاکستان کے فوجی نمائندوں نے اس موقع پر تقاریر کرتے ہوئے لیفٹینٹ جنرل ملک اختر حسین صاحب مرحوم کو نہایت شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور ان کی غیر معمولی صلاحیتوں اور عظیم کارناموں کو سراہا۔فوجی رسوم ادا کرنے کے بعد نو بجے دونوں تابوت تدفین کے لئے ایک خاص ہیلی کاپٹر کے ذریعہ چکلالہ سے ربوہ روانہ کر دئے گئے۔حضرت خلیفة اصبح الثالث نے کراچی سے بذریعہ فون اس سلسلے میں امیر مقامی صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کو ایک دن قبل ضروری ہدایات صادر فرما دی تھیں۔جن کی روشنی میں آپ نے اپنے رفقاء کار کی سرکردگی اور نگرانی میں وسیع پیمانے پر جملہ انتظامات شروع کر دئے تھے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت کامیاب رہے۔ان ہدایات میں نماز جنازہ اور تدفین کے علاوہ نظم وضبط برقرار رکھنے اور باہر سے آنے والے ہزار ہا فوجی اور غیر فوجی معززین کے قیام وطعام کے اہم کام بھی شامل تھے۔پروگرام کے مطابق دس بج کر پچپن منٹ پر پہیلی کا پٹرر بوہ کی فضا میں پہنچا اور قصر خلافت سے ملحق میدان میں اترا جہاں فوج کے ایک دستہ نے عقیدت کے ساتھ سلامی دی۔دونوں تابوت پاکستان کے سبز ہلالی پرچم میں لیٹے ہوئے تھے۔اس موقعہ پر امیر صاحب مقامی کی سرکردگی میں صدر انجمن احمدیہ کے ناظران تحریک جدید کے وکلاء، خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعدد افراد اور دیگر بہت سے احباب موجود تھے۔متعدد اعلیٰ فوجی حکام کے علاوہ ضلع جھنگ کے ایڈیشنل کمشنر راجہ ظفر علی صاحب اور ڈی ایس پی شیخ خلیل حسن بھی آئے ہوئے تھے۔تابوت فوجی اعزاز کے ساتھ تحریک جدید کے گیسٹ ہاؤس تک پہنچائے گئے جہاں مرحوم کے اعزہ واقارب اور دیگر معززین کے قیام و طعام کا بھی انتظام تھا۔جو اصحاب جنازہ کے ہمراہ تشریف لائے ان میں متعدد اعلی فوجی حکام کے علاوہ