تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 111 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 111

تاریخ احمدیت۔جلد 25 111 سال 1969ء 106 ارشاد فرمایا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام، حضرت خلیفہ اول اور حضرت مصلح موعود کی تفاسیر کے اقتباسات پر مشتمل ہو۔قیام کراچی کے دوران بعض سعید روحیں حضرت خلیفتہ اسیح کے دست مبارک پر بیعت کر کے داخل احمدیت ہوئیں۔ربوہ واپسی سے قبل ایڈ مرل ایس ایم احسن کی آپ سے ملاقات ہوئی۔اس ملاقات میں حضور انور نے آپ کو مشرقی پاکستان کا گورنر بنے پر نہایت قیمتی نصائح سے نوازا جن کو ایڈ مرل احسن صاحب کی طرف سے بہت سراہا گیا۔نیز آپ نے ان کو امیر تیمور کے متعلق ایک کتاب عطا فرمائی جس کی حکمرانی کے متعلق حضور بہت اچھی رائے رکھتے تھے۔بعد ازاں ایڈ مرل صاحب نے مکرم انور احمد کاہلوں صاحب کو بتایا کہ میں نے اس کتاب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ایک ماہ قیام فرمانے کے بعد ۱۵ ستمبر ۱۹۶۹ء کو آپ واپس تشریف لائے۔حضور کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز لاہور پہنچے چوہدری ظہور احمد باجوہ صاحب بھی حضور کے ہمراہ تھے۔ہوائی اڈہ پر خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض افراد اور بعض مقامی احباب نے حضور کا استقبال کیا۔ہوائی اڈہ پر ہی قیام فرمانے کے بعد حضور ساڑھے دس بجے ربوہ کے لئے موٹر کار پر روانہ ہوئے۔ربوہ میں بہت سے احباب صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی سرکردگی میں حضور کو خوش آمدید کہنے کی غرض سے احاطہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں جمع تھے۔حضور نے جملہ حاضر احباب کو مصافحہ کا شرف بخشا۔108 100 قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جماعت احمدیہ کا سخت احتجاج ۲۱ راگست ۱۹۶۹ء کو یہ المناک خبر منظر عام پر آئی کہ یہودیوں نے مسجد اقصیٰ کو نذرآتش کرنے کی ناپاک سازش کی ہے جس سے مسلمانان عالم میں رنج و غم کی زبر دست لہر دوڑ گئی اور دنیا بھر کے احمدی تڑپ اٹھے۔سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث اُن دنوں کراچی میں قیام فرما تھے۔حضور نے ۲۹ راگست ۱۹۶۹ء کو مسجد اقصیٰ کی آتش زنی اور بے حرمتی کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور فرمایا کہ اس المناک واقعہ کا اولین تقاضا یہ ہے کہ تمام عالم اسلام متحد ہو کر یہود نامسعود کے اس خطرناک چینج کا جواب دے کیونکہ اس مذموم حرکت سے یہود نے مسلمانوں کی غیرت و حمیت کو للکارا ہے۔حکومت پاکستان کو اس غرض کے لئے مؤثر قدم اٹھانا چاہیے اور جماعت احمد یہ اپنی حکومت کے اقدام کے