تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 110
تاریخ احمدیت۔جلد 25 110 سال 1969ء سے برابر اور مساوی ہیں۔ہر انسان احسن تقویم کے شرف سے مشرف ہے۔صرف مال و دولت وجہ امتیاز نہیں بلکہ حقیقی اکرام اور دائمی اعزاز کا دارو مدار طہارت قلب اور تقوی اللہ پر ہے۔اسلام نے ہر فرد بشر پر قرب الہی کی راہ کھول دی ہے۔البتہ اس راہ پر چل کر حقیقی کامیابی کا حصول دراصل خدا کی راہ میں انسان کی مخلصانہ کوششوں، بچی قربانیوں حقیقی مجاہدہ، جذ به فدائیت اور عاشقانہ ایثار کا مرہون منت ہے جنہیں اللہ کی رحمت قبول کرتی ہے۔حضور نے بشریت کے کمال یعنی رضائے الہی کے حصول کے لئے انسان کی فطری خواہش کو سیر روحانی سے تعبیر فرمانے کے بعد اس امر کو قرآن کریم کی متعدد آیات سے واضح کیا کہ اسلام نے بلند سے بلند روحانی درجات کے حصول کے لئے استقلال اور استقامت سے اعمال صالحہ بجالانے کو ضروری قرار دیا ہے۔دوسرے خطبہ جمعہ (مورخہ ۵ ستمبر ) کو حضور نے تسخیر عالم کی عظیم جدوجہد میں انسان کی چاند تک رسائی کے کارنامے سے پیدا ہونے والے اعتراضات کا ذکر کر کے الارض کے حقیقی مفہوم پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور واضح فرمایا کہ اسی ارضی لباس میں سرتا پا ملبوس اسی زمینی ہوا میں سانس لے کر اور اسی دنیا کے کھانے پینے کی چیزوں کے سہارے چاند پر چند گھنٹے گزار کر واپس آجانے سے قرآن کریم کی ابدی صداقتوں اور حق و حکمت پر مشتمل تعلیم پر قطعاً کوئی حرف نہیں آتا۔البتہ اس میں اللہ تعالیٰ کی یہ شان نظر آتی ہے کہ اس نے انسان کو کتنی ذہنی اور دماغی طاقتیں عطا فرمائی ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو صحیح رنگ میں استعمال کر کے چاند تک پہنچنے کے عظیم تاریخی کارنامے سے سرفراز ہوا۔۲ ستمبر کے خطبہ جمعہ میں حضور نے سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات کی روشنی میں مومنوں، کافروں اور منافقوں کی خصوصیات، کیفیات اور علامات نہایت شرح وبسط سے بیان فرما ئیں اور بتایا کہ مومنین اور منکرین کے درمیان ایک گروہ منافقین کا ہوتا ہے جو دونوں گروہوں سے اپنی محبت و وفا کا دم بھرتا ہے اور مصلح کے لباس میں فتنہ گر کی حیثیت میں جماعت میں انتشار پھیلاتا ہے اور خدائے علام الغیوب اور اس کے مومن بندوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مومنوں کا ذکر کر کے اپنے مومن بندوں پر بہت بڑے اعتماد کا اظہار فرمایا ہے اس لئے ہماری کوشش اور دعا یہی ہونی چاہیے کہ ہم انشاء اللہ اس اعتماد پر پورا اتریں گے۔حضور نے جماعت کو یہ ہدایت بھی فرمائی کہ سورۃ بقرہ کی ابتدائی سترہ آیات ہر احمدی کو یاد ہونی چاہئیں اور ان کے معانی بھی آنے چاہئیں اور اُن کی تفسیر بھی جس حد تک ممکن ہو۔نیز ان آیات کی تفسیر سے متعلق ایک مختصر کتا بچہ بھی شائع کرنے کا