تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 109
تاریخ احمدیت۔جلد 25 109 سال 1969ء پر منحصر ہے ہر ایک کا یہ کام نہیں۔اس نشتر و اللہ تعالیٰ کی راہنمائی میں امام وقت کے محتاط ہاتھ ہی استعمال کر سکتے ہیں ایسے روحانی بیمار اور نفاق زدہ انسان کے ساتھ نرمی ، شفقت اور ڈھیل دیئے جانے کو امام وقت کی کمزوری پر محمول کرنا بڑی نادانی ہے۔دراصل ان کی مفسدانہ کاروائیوں سے چشم پوشی کرنا اور صبر سے برداشت کرنے کے پیچھے امام وقت کا انتہائی رحم دلانہ اور ہمدردانہ جذ بہ کارفرما ہوتا ہے تا شاید یہ شخص سنبھل جائے اور ہلاکت سے بچ جائے۔اللہ تعالیٰ کے غضب کا مورد نہ بنے اس لئے ہزار دواؤں اور ہزار دعاؤں کے بعد جماعت کے وسیع تر مفاد کے پیش نظر انتہائی قدم ناگزیر ہوتا ہے۔یہ در اصل شیطانی دباؤ اور فتنے ہیں جن کا ہر وقت چوکس اور بیدار رہ کر سد باب کرنے میں کوشاں رہنا چاہیے۔ہمارے شفا خانے کے دروازے ہر وقت کھلے رہنے چاہئیں۔حضور نے ہدایت فرمائی کہ جہاں بھی کوئی اس قسم کا مرض نمودار ہو۔جہاں بھی کوئی اس قسم کا فتنہ سراٹھائے کوئی ایسا نا خوشگوار واقعہ دیکھے یا سنے۔اس کے متعلق بے کم و کاست بے دھڑک بلاخوف تحقیق مرکز میں اطلاع بھجوا دینی چاہیے۔استمبر کو میجر چوہدری عزیز احمد صاحب ڈائریکٹر شاہنواز لیمیٹڈ کراچی 4 بجے شام حرکت قلب بند ہو جانے سے وفات پاگئے۔حضور مرحوم کی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے اور قریباً ۱۲ بجے شب نماز جنازہ پڑھائی اور مرحوم کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کر دیر تک دعا کی۔بعد ازاں ۲ ستمبر کے خطبہ جمعہ میں مرحوم کے اخلاص کے پیش نظر نا گہانی وفات پر رنج والم کا اظہار فرمایا اور نماز کے بعد غائبانہ نماز جنازہ بھی پڑھائی۔مرحوم کی نعش ۲ ستمبر کی صبح کو بذریعہ ہوائی جہاز ربوہ لائی گئی جہاں نماز جمعہ کے بعد مولانا قاضی محمد نذیر صاحب ناظر اصلاح وارشاد نے نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں بہشتی مقبرہ میں سپردخاک کر دیا گیا۔اخبار الفضل سے معلوم ہوتا ہے کہ سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے احمد یہ ہال کراچی میں جمعہ کے تین پُر معارف خطبات ارشاد فرمائے۔۲۲ اگست کے خطبہ جمعہ میں حضور نے انسانی تخلیق اور اس کے مقصد، انسانی شرف اور اس کے احترام اور انسانی معاشرہ میں مساوات سے متعلق اسلام کی حکیمانہ تعلیم پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فرمایا انسانی تاریخ میں پہلی بار اللہ تعالیٰ نے محسن انسانیت حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے یہ عظیم الشان اعلان کروایا کہ تمام بنی نوع انسان بلا امتیاز رنگ و نسل ، مذہب و ملت ، قوم و ملک اور امیر وغریب انسانی شرف اور مرتبہ کے لحاظ۔