تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 108 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 108

تاریخ احمدیت۔جلد 25 108 سال 1969ء اللہ مرکزیہ، ڈاکٹر صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب نائب صدر، چوہدری ظہور احمد صاحب قائد مال اور چو ہدری ظہور احمد صاحب باجوہ پرائیویٹ سیکرٹری نے بھی شمولیت کی۔اس موقع پر سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے دوسو سے زائد انصار کو ایک نہایت روح پرور خطاب سے نوازا۔فرمایا کہ انصار اللہ کی اصل اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ جماعت کے ماحول کو پاکیزہ رکھنے اور مطہر بنانے کے لئے اندرونی اور بیرونی فتنوں سے ہمیشہ چوکس اور بیدار ر ہیں۔اُن کا سد باب کرنے میں وہ کوئی کسر اٹھانہ رکھیں۔وہ شیطان کا کوئی وار کامیاب نہ ہونے دیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت اخلاقی اور روحانی رفعتوں کے جس بلند مقام پر سرفراز ہے اس پر برقرارر ہے۔جماعتی اتحاد اور شیرازہ میں نفاق کا کوئی رخنہ واقع نہ ہو اور یہ مبارک قافلہ اپنی پوری رفتار کے ساتھ منزل مراد کی طرف رواں دواں رہے۔حضور نے بعض بیرونی دباؤ اور ان کے مہلک اثرات اور گمراہ کن نتائج کا ذکر کرتے ہوئے انصار اللہ کو متوجہ کیا کہ وہ اپنے حسن عمل اور حسن اخلاق سے ثابت کریں کہ اسلام ایک حسین مذہب ہے جو بنی نوع انسان کی دینی و دنیوی فلاح و بہبود کا ضامن ہے۔حضور نے اندرونی فتنوں کے بعض موجبات اور محرکات کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا جماعت میں ایک کمزوری عدم علم اور جہالت کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے اور حقیقت حال کا علم نہ ہونے کی وجہ سے بسا اوقات ناشائستہ باتیں منہ سے نکل جاتی ہیں جس کے تدارک کی بہتر صورت یہ ہے کہ مناسب طریق پر ایسے عنصر کو سمجھا دیا جائے۔البتہ اس میں بھی فراست سے کام لینا چاہیے اور اس بات کو ذہن میں رکھا جائے کہ نظام کو جہالت کے سامنے دینا نہیں چاہیے تا کہ بدخصلت کو نا جائز شہ نہ ملنے پائے۔حضور نے فرمایا ایک اور کمزوری روحانی مرض سے تعبیر کی جاتی ہے جو بڑھتے بڑھتے بالآخر نفاق پر منتج ہوتی ہے۔منافقت در اصل روحانی امراض کی بگڑی ہوئی شکل ہے جو بظاہر مصلحانہ لباس میں مگر بباطن مفسدانہ عزائم کی حامل ہوتی ہے۔اس مرض اور اس کے اثرات کا تدارک بڑا ضروری ہے اور اس کی ذمہ داری صرف مجلس انصار اللہ تک محدود نہیں بلکہ جماعت کا نظام جس جس شکل میں موجود ہے سب کا یہ فرض ہے کہ حسن ظن مگر ساتھ ہی مومنانہ فراست سے کام لیتے ہوئے ہر ممکن تدابیر عمل میں لائیں اور اصلاح کی مقدور بھر کوشش کریں۔اگر اصلاحی کوششیں کارگر نہ ہوں اور مرض بڑھتا چلا جائے جس سے جماعت کے شدید متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو پھر آخری اور انتہائی قدم خلیفہ وقت کی صوابدید