تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 91
تاریخ احمدیت۔جلد 25 91 سال 1969ء صدر ایوب سنی گھرانے میں پیدا ہوئے۔وہ ہنوزسنی ہیں۔انہوں نے کبھی اپنے سنی عقیدے کوترک کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔یہ کہنا غلط ہے کہ وہ قادیانی (احمدی) ہو گئے ہیں۔قرآن حکیم پر ان کے عقائد میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی رسول خدا (صلی اللہ علیہ وسلم ) کو خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کرتے ہیں۔“ ہم حتمیت کے ساتھ یہ کہنے کی پوزیشن میں تو نہیں کہ لاہور کے وہ ممتاز شہری کون ہیں؟ ان کے اپنے عقائد کیا ہیں؟ اور انہوں نے پورے دس سال کے بعد کن ہفوات سے متاثر ہوکر صد رایوب سے ان کے دینی عقائد کے بارے میں وضاحت طلبی کی ضرورت محسوس کی۔اور کیا وہ اس وضاحت سے مطمئن بھی ہو گئے ہیں یا نہیں۔غالب قیاس یہی ہے کہ وہ غیر مسلم ہوں گے جو اپنے گردو پیش میں علماء سیاست کی بھڑ کائی ہوئی تشنت وافتراق کی آگ سے متاثر ہوئے اور ان کے دل میں صدر مملکت کے دینی عقائد جاننے کا خیال پیدا ہوا۔کیونکہ ایک مسلمان کو تو (خواہ وہ سنی ہو، اہلحدیث ہو، شیعہ ہو یا احمدی) یہ خوب معلوم ہے کہ سید ولد آدم وجہ تخلیق کائنات حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم نہ کرنے والے کا ایمان اور اسلام دونوں مکمل نہیں کہلا سکتے۔بلکہ ہم پورے وثوق اور تحدی کے ساتھ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ وہ فرقہ (جس کی طرف افواہا منسوب ہونے کی صدر مملکت کی طرف سے تردید کی گئی ہے ) اور جسے حکمران و غیر حکمران ( یعنی حصول اقتدار کی رسہ کشی میں مصروف بھی اور ہر قیمت پر اقتدار سے چپکے رہنے پر بضد بھی) دونوں طبقے آئندہ عام انتخابات میں ٹرمپ کارڈ کے طور پر استعمال کرنے کے داؤں پر ہیں۔اس کا ہر رکن بھی حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم تسلیم کرتا اور اسی میں اپنی سعادت، خوش بختی اور نجات سمجھتا ہے یہ دوڑ دراصل ہے محبت و اظہار محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں مسابقت کی اور اختلاف ہے تو وفور محبت و عقیدت کے باعث انوار و فیضان نبوت کی تشریحات و تاویلات میں ! کاش متذکرہ فرقہ کی اپنے محبوب و مطاع ( صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عشق و محبت کو سیاسی کور ذوقی کی کسوٹی پر پرکھنے والوں کی نگاہ کبھی اس کے بانی کے اس نعرہ مستانہ کی طرف بھی اٹھتی۔بعد از خدا بعشق محمد محمرم گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم خدائے واحد ویگانہ کے بعد میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے نشہ عشق میں چور ہوں اور اگر یہ کفر