تاریخ احمدیت (جلد 25)

by Other Authors

Page 92 of 435

تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 92

تاریخ احمدیت۔جلد 25 92 سال 1969ء ہے تو یہ اعتراف اور اس اعتراف پر ہزار فخر کہ ) مجھ سے بڑا کا فراور کوئی نہیں۔جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے۔صدر ایوب کے دینی عقائد کے بارے میں کسی بھی مذہب دوست پاکستانی کوکوئی بھی غلط نبی نہیں تھی اور نہ ہے اور جس گروہ کو ہے اس کی بدلنی کی اساس چونکہ بد نیتی اور سیاسی فتنہ آرائی پر ہے لہذا یہ غیر ضروری وضاحت جہاں اول الذکر طبقے کے لئے کوئی اہمیت نہیں رکھتی ثانی الذکر طبقے کے دل کے گند بھی نہیں دھو سکتی۔بلکہ کوئی عجب نہیں۔اب اسی ٹولے کی طرف سے اس وضاحت کے بعد متعلقہ افواہ کو یہ رنگ بھی دے دیا جائے کہ معلوم ہوا صرف احمدی ہی نہیں۔صدر مملکت ایک حد تک شیعہ عقائد بھی رکھتے ہیں اور تقیہ کرتے ہوئے اظہار حقیقت سے پہلو تہی فرما گئے ہیں۔سچ پوچھئے تو ہمارے خیال میں یہ وضاحت صرف غیر ضروری ہی نہیں بے وقت بھی ہے کیونکہ اس کا اصل وقت تو آج سے سات آٹھ ماہ قبل وہ تھا جب احرار اور جمیعۃ العلماء نے با قاعدہ ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت مغربی پاکستان میں شہر بہ شہر، قصبہ بہ قصبہ، محلہ بہ محلہ اور مسجد بہ مسجد پھر کر احمدی اور شیعہ فرقوں کو کافر، مرتد اور علی الاعلان واجب القتل قرار دینے کی مہم شروع کی تھی۔اور جب ہر تقریر کے آخر میں ٹیپ کے مصرع کے طور پر یہ کہ کر کہ صدر ایوب بھی قادیانی ہو گئے ہیں عوام کے ذہنوں اور دلوں میں تنظر اور سمیت کا لاوا بھرا جارہا تھا۔یہ تقریریں کونوں کھدروں میں نہیں لاؤڈ سپیکروں پر ہوتی تھیں۔رات کے دو دو بجے تک ہوتی رہتی تھیں۔مغربی پاکستان کے صدر مقام لاہور تک میں یہ سیاسی مولوی صبح کاذب تک چنگھاڑتے دھاڑتے رہتے تھے۔بیسیوں دفعہ ان تقریروں کے بارے میں متعلقہ پولیس اور اعلیٰ افسروں کو مطلع کیا گیا۔لاہور نے تو صوبائی حکومت کی (اس طرف توجہ مبذول کرانے کے لئے اس موضوع سے متعلق محض امن پسندوں کی مراسلتیں بھی شائع کیں اور ادارتی نوٹ بھی لکھے (جن میں سے ایک اسی اشاعت میں کسی دوسری جگہ شریک ہے ) لیکن کیا مجال جوانتظامیہ کے کانوں میں جوں تک رینگی ہو۔بس سب یہی سمجھ کر مگن رہے کہ ایک تھوڑی نفری والے فرقے ہی کو لتاڑا جارہا ہے۔حالانکہ ملک کا آئین اس موضوع پر خوب واضح ہے کہ اس میں کسی بڑے سے بڑے کے لئے بھی وطن عزیز کے کسی بھی دوسرے شہری کے خلاف ( خواہ وہ کسی بھی مذہبی یا سیاسی عقیدہ کا نقیب و داعی ہو ) قتل و غارت گری کی تلقین کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔