تاریخ احمدیت (جلد 25) — Page 90
تاریخ احمدیت۔جلد 25 90 سال 1969ء سے مختلف موضوعات پر گفتگو فرماتے رہے۔مسجد سے واپس تشریف لاتے وقت حضور نے احباب کو از راہ شفقت مصافحہ کا شرف بھی بخشا۔۳ اگست کو کثیر تعداد میں احباب جماعت نے حضور کی ملاقات کی سعادت حاصل کی۔اس روز ملاقاتوں کے بعد حضور خاصی دیر تک مختلف دینی اور علمی امور پر گفتگو فرماتے رہے اور تلقین فرمائی کہ احباب جماعت کو اسلام کی فتح کے دن کو قریب تر لانے کے لئے دوسروں کے ساتھ حسن اخلاق کا ایسا مظاہرہ کرنا چاہیے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع اور پیروی میں اخلاقی معجزہ کا رنگ رکھتا ہو۔حضور مری میں قریباً 4 ہفتہ قیام فرمانے کے بعد ۵ اگست کو بوقت دو پہر بارہ بج کر پینتالیس منٹ پر بذریعہ موٹر کار واپس تشریف لے آئے۔بہت سے احباب نے دفتر احاطہ پرائیوٹ سیکرٹری میں جمع ہو کر امیر مقامی محترم صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی زیر سر کردگی استقبال کی سعادت حاصل کی۔حضور نے شدید گرمی کے باوجود احاطہ دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں موجود جملہ احباب کو مصافحہ کا شرف بخشا۔حضور کے ہمراہ خاندان کے بعض دیگر افراد نیز چوہدری محمد علی صاحب ایم اے پرائیوٹ سیکرٹری اور عملہ کے دیگر ارکان بھی ربوہ واپس آگئے۔مخالفین احمدیت کی طرف سے اشتعال انگیزی کی مہم گذشته سال ۱۹۶۸ء کے وسط آخر میں احرار اور جمیعۃ العلماء نے ایک سازش کے تحت ملک میں احمدیت کے خلاف نہایت زہریلی اور اشتعال انگیز مہم جاری کی جس میں آئندہ انتخاب صدارت پاکستان کے سلسلہ میں ٹرمپ کارڈ کے کے طور پر اپنی ہر تقریر کے آخر میں پراپیگنڈا کیا کہ صدر ایوب بھی قادیانی ہو گئے ہیں۔اس سال کے شروع میں صدر ایوب کے مشیر نے اس پراپیگنڈا کی تردید کی جس پر مدیر لاہور جناب ثاقب زیروی صاحب نے ” بے وقت۔بے ضرورت کے زیر عنوان حسب ذیل اداریہ سپرد اشاعت فرمایا:۔اگلے دن صدر ایوب کے مشیر سید فدا حسن نے سر براہ مملکت کی طرف سے ایک مکتوب میں ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں وضاحت کی ہے۔( جیسا کہ اس خبر میں بتایا گیا ہے ) مشیر صدرمملکت نے اپنے مکتوب میں لاہور کے اس ممتاز شہری کو (جس نے بواسطہ ملٹری سیکرٹری ایک خط کے ذریعہ صدر مملکت کے عقائد کی وضاحت چاہی تھی ) بتایا ہے کہ :۔