تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 864 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 864

تاریخ احمدیت۔جلد 24 842 سال 1968ء میں استحکام پاکستان کے نقطۂ نگاہ سے ہالینڈ مشن کی خدمت کو کوئی مؤرخ نظر انداز نہیں کر سکتا جس کے دارالحکومت ہیگ میں چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب ۱۵ سال سے زائد عرصہ تک انصاف کے 121 C جج کے طور پر مقیم رہے۔مبلغ ہالینڈ چوہدری صلاح الدین خاں صاحب نے انہی دنوں مشن کی رپورٹ میں لکھا:۔ہالینڈ کے سماجی اور ثقافتی معاملات کے وزیر کی طرف سے ایک عظیم تاریخی استقبالیہ میں شرکت کے لئے مکرم امام صاحب کو دعوت دی گئی۔یہ ملک بھر کے صحافیوں کے اعزاز میں پہلا تاریخی استقبالیہ تھا۔اور شہر ہیگ کی صحافتی ایسوسی ایشن کی ۷۵ ویں سالگرہ کی تقریب تھی۔صحافیوں کے علاوہ وزراء اور دوسرے معززین مدعو کئے گئے تھے۔اس موقعہ پر وزیر موصوف نے تقریر بھی کی۔خاکسار نے بھی اس میں شرکت کی۔تین مختلف مدیران سے مسجد اور جماعت کا تعارف کرایا۔اس کے علاوہ کشمیر کے مسئلہ پر دیر تک گفتگو کرتے ہوئے انہیں بتایا کہ جغرافیائی نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے تو کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنا چاہیئے کیونکہ پاکستان کے اہم دریا جن پر ملک کی زرعی زندگی کا دارو مدار ہے ہمالیہ کے دامن سے پھوٹ کر کشمیر کے راستے بہتے ہوئے پاکستان پہنچتے ہیں۔تقسیم برصغیر سے قبل کشمیر کی تجارت اور ملکی پیداوار کی برآمد کے لئے پاکستان کا راستہ ہی سب سے آسان راستہ تھا۔اور پھر چونکہ کشمیر کی اکثریت مسلم آبادی پر مشتمل ہے اس لئے ان کا ثقافتی اور برادرانہ تعلق بھی مسلمانوں کے ساتھ ہے۔لیکن قطع نظر اس ثقافتی اور جغرافیائی پس منظر کے اس مسئلہ کو ایک اور نقطہ نگاہ سے بھی دیکھا جا سکتا ہے اور اس نقطہ نگاہ کو دنیا کی کوئی قوم ، جس کے ضمیر میں زندگی کا شعلہ ابھی فروزاں ہے نظر انداز نہیں کر سکتی۔اور وہ ہے انصاف کا نقطۂ نظر۔اقوام متحدہ سے بھارت یہ وعدہ کر چکا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا حق صرف کشمیر کے باشندوں کو حاصل ہے۔اور انہیں اس حق کو استعمال کرنے کا موقع دیا جائے گا۔اب زیادتی کس کی ہے؟ مظلوم کشمیریوں کے بارے میں ان کے حقوق کی پامالی کون کر رہا ہے؟ اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ہر صاحب نگاہ بخوبی دیکھ سکتا ہے۔ان صحافیوں نے کہا ہمیں تو ان حقائق کا علم ہی نہیں تھا۔اس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ ہمیں اپنے ملکی نقطہ نظر کو عام کرنے کی کس قدر ضرورت ہے۔بہر حال خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمارے مبلغین جہاں اپنے مفوضہ کام، اشاعت اسلام کے لئے کوشاں ہیں وہاں موقع کے مطابق اپنے وطن عزیز کی