تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 865 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 865

تاریخ احمدیت۔جلد 24 843 سال 1968ء ساکھ کے لئے بھی پوری کوشش کرتے ہیں۔اسی طرح مکرم امام صاحب نے بھی اپنی مختلف و متعدد تقاریر میں مسئلہ کشمیر اور مسئلہ فلسطین پر بھی روشنی ڈالی ہے۔122 جنوبی افریقہ کا ایک مسلمان ملاح روٹرڈم کی بندرگاہ میں ڈوب کر فوت ہو گیا۔جہاز کے عملہ میں اور بھی مسلمان تھے۔میت کو واپس افریقہ لے جانے کی بجائے اس کی تدفین کا انتظام بندرگاہ کے قریب ایک عیسائی قبرستان میں کیا گیا۔تدفین کے موقع پر احمد یہ مسجد ہیگ کے نمائندہ کو بھی بلایا گیا۔تا کہ اس امر کو ملحوظ رکھا جائے کہ اس کی تدفین اسلامی طریق پر ہو۔چنانچہ چوہدری صلاح الدین خان صاحب مبلغ ہالینڈ نے اسلامی طریق پر اس کی تدفین کی نگرانی کی۔جہاز کے مسلمان عملہ کا نمائندہ جماعت کی مسجد میں بھی آیا۔اور احمد یہ جماعت کے بارے میں گفتگو کی۔وہ جماعت کے مشنوں کی سرگرمیوں سے بہت متاثر ہوا اور اس نے مسجد کے لئے کچھ چندہ بھی دیا۔ہالینڈ میں اس سال کیتھولک اور پروٹسٹنٹ عیسائیوں کی ہفت روزہ مذاہب عالم کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں متعدد مذاہب کے نمائندوں نے اپنے اپنے مذہب کی خصوصیات پر روشنی ڈالی۔اسلام کی نمائندگی کا شرف مولوی عبدالحکیم صاحب اکمل کو حاصل ہوا۔مولوی صلاح الدین صاحب بنگالی نے کا نفرنس کے متعلق لکھا:۔اجلاس میں سامعین کی تعداد خاصی تھی۔اس موقع پر عوام الناس کے علاوہ کیتھولک پادری صاحبان اور پروٹسٹنٹ چرچ منسٹر بھی تھے۔یہ اللہ تعالیٰ کا فضل واحسان ہے کہ اس نے اتنے بڑے مجمع کے سامنے اسلام کا پیغام پہنچانے کا موقع پیدا کر دیا۔امام صاحب کی تقریر کا اللہ تعالیٰ کے فضل سے حاضرین پر بہت اچھا اثر ہوا۔شاید یہی وجہ ہے کہ وقفہ ہوتے ہی حاضرین اس میز کی طرف لیکے جہاں ہماری کتب رکھی ہوئی تھیں اور انہوں نے باوجود پادریوں کی طرف سے اس سلسلہ میں ہمت شکن رویہ اختیار کرنے کے ساری کی ساری کتابیں خرید لیں۔ایک پروٹسٹنٹ منسٹر تو اس قدر متاثر ہوئے کہ اجلاس کے اختتام پر خود اٹھ کر امام صاحب سے ملنے آئے اور دوستانہ جذبات کا اظہار کیا۔اور امام صاحب کو اپنی کار میں منزلِ مقصود تک پہنچانے کے لئے اپنی خدمات پیش کیں۔حالانکہ دورانِ سوالات ان کا انداز گفتگو جارحانہ تھا۔مگر اپنے سوالوں کا معقول جواب سن کر یکدم نرم پڑ گئے۔Wageningen کے دو طلباء اسلام کے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لئے دار التبلیغ تشریف لائے تو محترم چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے قریباً ایک گھنٹہ تک ان سے گفتگو فرمائی اور 124-