تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 845
تاریخ احمدیت۔جلد 24 823 سال 1968ء نے بنایا تھا جس میں خاکسار بھی شامل ہوا۔اس فلم کو دیکھنے کے لئے کثیر تعداد میں لوگ جمع تھے اور ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔مکرم ساقی صاحب کے ارشاد پر میں نے مختصر احج کی فلاسفی ، اسلامی اخوت اور اپنے لائبیریا کے دورہ کے محرک پریذیڈنٹ ٹب مین کے شکریہ پر مشتمل تقریر کی جس کا ترجمہ دوزبانوں میں ساتھ ساتھ ہوتا رہا۔اگلے دن یعنی مورخہ ۲۵ جولائی کو جناب پریذیڈنٹ ٹب مین صاحب سے ملاقات کا وقت مقرر تھا۔دس بجے خاکسار مکرم ساقی صاحب کے ہمراہ پریذیڈنٹ ہاؤس میں پہنچا۔جناب پریذیڈنٹ صاحب سے ملاقات کی۔انہوں نے خاکسار کو خوش آمدید کہا اور انگلستان میں مسجد آنے کے واقعہ کا ذکر فرمایا۔نیز یوم آزادی کے سلسلہ میں منعقد ہونے والی جملہ تقریبات میں شمولیت کی دعوت دی۔آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے ذاتی فارم کو دیکھنے کا بھی وقت نکال کر اس کو ضرور دیکھنے جاؤں۔پریذیڈنٹ صاحب نہایت خلیق انسان ہیں اور جو خوبی ان کی سب سے زیادہ مجھے متاثر کرتی رہی وہ ان کی منکسر المزاجی ہے۔۔۔اسی روز شام کو احمد یہ مشن ہاؤس میں مجلس عاملہ کے احباب سے ملنے کا موقع ملا۔مکرم ساقی صاحب نے جملہ احباب کا تعارف کرایا۔خاکسار نے لنڈن مشن کے طریق کار اور جماعت لنڈن کے احباب کے اخلاص کا تذکرہ کیا۔اور اسلام کے لئے قربانیوں کی طرف ان کی توجہ مبذول کرائی۔نیز جماعت ہائے احمد یہ انگلستان کے ایام تبلیغ کی کامیابی کا ذکر کیا۔جمعه مورخہ ۲۶ جولا ئی لائبیریا کا یوم آزادی تھا۔صبح ساڑھے آٹھ بجے فوجی پریڈ تھی۔میں بھی مدعو تھا۔شامیانے کے نیچے جہاں پریذیڈنٹ صاحب کی کرسی تھی اس سے تیسرے نمبر پر خاکسار کو جگہ دی گئی جو پریذیڈنٹ صاحب کی طرف سے خاکسار کا خاص اعزاز تھا۔غیرممالک کے سفراء اور وزراء ملک وغیرہ سب کو پیچھے نشستیں دی گئی تھیں۔پریذیڈنٹ صاحب جب تشریف لائے تو سب لوگ احتراماً کھڑے ہو گئے۔پریذیڈنٹ صاحب جب کرسی پر رونق افروز ہوئے تو ان کی نظر خاکسار پر پڑی۔دوبارہ اٹھ کر میرے پاس آئے اور مصافحہ کیا اور پوچھا کہ کوئی تکلیف تو نہیں ہے۔یہ بھی ان کے حسنِ اخلاق کا ثبوت تھا۔پریڈ شروع ہوئی اور قریباً ڈیڑھ گھنٹہ تک جاری رہی۔ایک بجے دوپہر مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے گئے۔مکرم ساقی صاحب کے ارشاد پر خطبہ جمعہ میں نے دیا۔اڑھائی بجے بعد دو پہر پریذیڈنٹ صاحب کی طرف سے استقبالیہ تھا جس میں