تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 844
تاریخ احمدیت۔جلد 24 822 سال 1968ء سیرالیون سے صبح ساڑھے دس بجے روانہ ہو کر قریباً ساڑھے بارہ بجے لائبیریا کے ائیر پورٹ را برٹس فیلڈ پر جہاز اترا۔میں نے کھڑکی سے باہر نظر کی تو سینکڑوں لوگوں کو جہاز کے بالکل قریب کھڑے دیکھا۔خیال کیا کہ شاید اس جہاز سے کوئی اور شخص آرہا ہے جس کے استقبال کے لئے یہ سب لوگ جمع ہیں۔جہاز سے باہر نکلے تو مکرم مبارک احمد صاحب ساقی مبلغ انچارج لائبیریا آگے آکر ملے اور انہوں نے بتایا کہ یہ تمام لوگ آپ کے استقبال کے لئے منرو یا سے جو ائیر پورٹ سے ۴۵ میل کے فاصلہ پر ہے آئے ہیں۔حکومت کے نمائندے بھی استقبال کے لئے موجود تھے۔مکرم ساقی صاحب کی معیت میں ان سے مصافحہ شروع ہوا اور قریباً ایک گھنٹہ اس میں صرف ہوا۔استقبال کرنے والوں میں منرویا کے مساجد کے دونوں امام مسلمان گورنر چیف صومومو مو پریذیڈنٹ مسلم کانگرس آف لائبیریا۔اور دیگر سرکردہ ارکان بھی شامل تھے۔دل خدا تعالیٰ کے شکر سے لبریز رہا۔یہ لوگ احمدی نہ تھے اور نہ ہی مجھے ذاتی طور پر جانتے تھے۔محض اللہ تعالیٰ کے خاص فضل سے اور اسلام کی خدمت کی برکت کے نتیجہ میں آج جمع تھے پھر ایک خاص بات جو فوری طور پر میں نے محسوس کی وہ یہ تھی کہ باوجود اجنبیت کے ان میں سے ہر مسلمان کو اخوت اسلامی کے جذبہ سے سرشار پایا۔استقبال کے مراحل سے فارغ ہو کر گورنمنٹ کی طرف سے مہیا کردہ ائر کنڈیشنڈ کار میں سوار ہو کرمنرویا کی طرف چل پڑے باہر دن خاصا گرم تھا۔دھوپ چمک رہی تھی۔لیکن کار کے اندر یوں محسوس ہوتا تھا کہ گویا سردیوں کے دن ہیں۔حکومت کا ایک نمائندہ بھی کار میں ساتھ تھا۔سارا راستہ خوبصورت اور سر سبز مناظر سے پُر تھا۔ربڑ کے درختوں کے کھیت کے کھیت نظر آتے تھے۔ایک گھنٹہ کے سفر کے بعد ہم شہر میں داخل ہوئے۔ہماری رہائش کا انتظام انٹر کانٹینینٹل ہوٹل میں کیا گیا تھا۔ہوٹل میں پہنچ کر اپنے کمروں میں گئے۔یہ ہوٹل لائبیریا کا سب سے بڑا ہوٹل ہے اور پوری طرح ائر کنڈیشنڈ ہے۔عین سمندر کے کنارے پر ہے اور بڑی اونچائی پر بنایا گیا ہے۔رات کے وقت شہر کا نظارہ بے حد دلفریب ہوتا ہے۔ہمیں دو الگ الگ حصے رہائش کے لئے ملے تھے۔یعنی ایک حصہ جس میں بیڈ روم اور ڈرائنگ روم وغیرہ کا پورا سیٹ تھا مجھے اور میری بیوی کو ملا اور دوسرا سیٹ میرے لڑکے منیر احمد کو۔کمروں میں قیام پذیر ہونے کے چند منٹ بعد حکومت کی طرف سے پروگرام ملا۔دو پہر کے کھانے اور آرام کے بعد شام کو ایک سکول کے ہال میں حج پر فلم دکھانے کا پروگرام مکرم ساقی صاحب