تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 841 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 841

تاریخ احمدیت۔جلد 24 819 سال 1968ء بعد عید ہو تو اس کے بعد ایک اور دن خوشی کے لئے مسلمانوں کو میسر آجائے اور اگر رمضان میں دن کا ہو تو رمضان کی تیسویں تاریخ کا دن انہیں تیاری کیلئے مل جائے۔گورنر جنرل صاحب نے یہ درخواست منظور کر لی اور عید الفطر کے لئے دو دن کی عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔اور اس کا نفاذ اسی سال ۱۹۶۸ء کی عیدالفطر سے ہوا۔عیدالفطر کے دو روز بعدم جنوری ۱۹۶۸ء کواللہ تعالیٰ نے ہز ایکسی لینسی گورنر جنرل صاحب گیمبیا الحاج سرسنگھائے صاحب کو اپنے وعدہ کے موافق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقدس کپڑے کی برکت سے ایک اور برکت عطا فرمائی یعنی ان کی بڑی بیگم صاحبہ الحاجہ ہاجرہ لیڈی مانٹا سنگھاٹے سے ایک اور فرزند ایک عرصہ کے بعد عطا فرمایا جس کا نام ہز ایکسی لینسی نے فواد مبارک سنگھاٹے تجویز فرمایا۔فواد عزیز کے دادا صاحب کا نام تھا اور مبارک محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر کے نام سے بطور تبرک لیا اور سنگھائے ان کا خاندانی نام (SURNAME) تھا۔جنوری ۱۹۶۸ء کو ہز ایکسی لینسی نے اپنے نومولود فرزند کا عقیقہ اپنے ذاتی مکان اور گورنمنٹ ہاؤس میں کیا۔گورنمنٹ ہاؤس میں سرکاری طور پر تقریب عقیقہ منعقد کی گئی جس میں وزیر اعظم صاحب گیمبیا اور دس بارہ دیگر عمائدین ملک وملت مدعو تھے۔ہز ایکسی لینسی کے ارشاد کے مطابق چوہدری محمد شریف صاحب نے رسم عقیقہ ادا کی یعنی عزیز نو مولود کے کانوں میں اذان واقامت کہی۔عزیز کے نام کا اعلان کیا اور دعا کروائی جس میں حاضرین شریک ہوئے۔بعد ازاں دو بکرے ذبح کئے گئے۔جنوری ۱۹۶۸ء کے پہلے ہفتہ میں باتھرسٹ ( دار الحکومت گیمبیا ) میں اچانک یعنی بغیر کسی اعلان وغیرہ کے بشپ صاحبان سینیگال، مارٹی نیا، مالی اور گیمبیا کی ایک خاص کا نفرنس منعقد ہوئی۔جس میں بقول گیمبیا گورنمنٹ نیوز بلیٹن میں یہ بات بھی زیر بحث تھی کہ اب جبکہ پوپ نے یہ اجازت دے دی ہے بلکہ تاکید کی ہے کہ دیگر مذاہب عالم کے ساتھ مذہبی گفتگو و مباحثات و مناظرات وغیرہ کئے جائیں۔(یادر ہے اس سے پہلے رومن کیتھولک کے لئے دیگر مذاہب کی کوئی مذہبی بات سننا یا ان کی کوئی کتاب و رسالہ یا اشتہار پڑھنایا ان سے مناظرہ و مباحثہ کرنا منع تھا ) اس بارہ میں کیا طریقے اور کیا وسائل اختیار کرنے چاہئیں وغیرہ۔گیمبیا مشن کو ان کے اس خفیہ کا نفرنس کا علم اس دن ہوا جب ان کی کانفرنس کا صرف ایک دن باقی تھا۔اور دوسرے دن وہ اپنے اپنے ہیڈ کوارٹروں کو واپس جانے والے تھے۔لہذا چوہدری شریف