تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 839 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 839

تاریخ احمدیت۔جلد 24 817 سال 1968ء۔یکم سے پانچ اکتوبر ۱۹۶۸ء تک ملک کے دارالحکومت نیروبی میں بین الاقوامی نمائش ہوئی۔نمائش میں مقابلے کے لئے جرمنی، انگلستان اور ہالینڈ نے گائیں اور بھیڑیں بذریعہ ہوائی جہاز بھجوائیں۔جانوروں کے مقابلہ کے لئے جاپان اور کینیڈا سے حج بلائے گئے۔احمد یہ مشن کی طرف سے اس میں پہلی دفعہ تبلیغی سٹال لگایا گیا۔سٹال کی تیاری کے لئے مولوی نور الدین صاحب کسوموں سے اور مولوی محمد عیسی صاحب ٹا ویٹا سے نیرو بی تشریف لائے مبلغین کے علاوہ نیروبی کے دوستوں نے بھی ان کا پورا پورا ہاتھ بٹایا اور اخراجات بھی بر دلٹریچر فروخت ہوا۔قطعات میں سب سے زیادہ دلچسپی اور توجہ کا مرکز حضرت عیسی علیہ السلام کی تصاویر والا قطعہ رہا۔ایک امریکن پادری صاحب نے شرارت کرنا چاہی۔مگر لوگوں نے اسے ملامت کی کہ دوسروں کے سٹال پر جا کر کیوں شور ڈالتے ہو۔شر ما صاحب نے انہیں مناظرہ کی بھی دعوت دی مگر انہوں نے ٹال مٹول سے کام لیا۔قرآن کریم کے مختلف تراجم بھی لوگوں کی توجہ کا موجب بنے رہے۔غیر احمدی مسلمان انہیں دیکھ کر خوشی کا اظہار کرتے اور کہتے کہ صرف جماعت احمدیہ فی الحقیقت بڑا کام کر رہی ہے۔ایک صاحب کہنے لگے۔عیسائیوں کے سٹالوں کو دیکھ کر ہمیشہ شرمندگی ہوتی تھی۔اس سال ہم بھی فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اسلامی سٹال بھی موجود ہے۔ایک صاحب نے کہا کہ یہاں سٹال لگا کر آپ نے مسلمانوں کی لاج رکھ لی ہے۔سٹال پر آنے والوں میں ہر قسم کے لوگ شامل تھے۔افریقن ، ایشین، یورپین، تاجر، وزراء، ممبر پارلیمنٹ، سرکاری عہدہ دار، غیر ملکی زائرین، طلباء، مرد و عورتیں وغیرہ۔الغرض اس سٹال کے ذریعہ جماعت احمدیہ کینیا کو ہزاروں افراد سے رابطہ کرنے کا موقع ملا۔اور ان تک احمدیت کا پیغام پہنچایا۔عام حالات میں اتنے تھوڑے عرصہ میں اور ایک جگہ پر اتنے لوگوں سے ملنا اور انہیں تبلیغ کرنا ممکن نہ تھا۔نمائش کے بعد لائبیریا کے سفیر کی طرف سے صدر ڈاکٹر ولیم ٹب مین کے اعزاز میں دی جانے والی ایک پارٹی میں مولوی عبدالکریم صاحب شرما نے بحیثیت امیر جماعتہائے کینیا صدر لائبیریا کو خوش آمدید کہا۔اور ان کی خدمت میں قرآن کریم انگریزی اور احمدیت کتاب بزبان انگریزی پیش کی۔صدر معظم نے خوشی سے کھڑے ہو کر بڑے احترام کے ساتھ یہ تحفہ قبول کیا اور شکریہ ادا کیا۔اس موقعہ پر حکومت کینیا کے وزراء، سرکاری عہد یدار اور دیگر ممالک کے سفراء موجود تھے۔امیر صاحب کے ہمراہ جماعت نیروبی کے جنرل سیکرٹری عثمان کا کو ریا صاحب بھی 100۔