تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 838 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 838

تاریخ احمدیت۔جلد 24 816 سال 1968ء خیالات کا اظہار کریں۔تنزانیہ کے بشپ صاحب نے کتاب لے لی اور وعدہ کیا کہ مطالعہ کے بعد جلد ہی تنقید لکھ کر بھجوائیں گے۔مگر ان کی طرف سے جواب تک نہ آیا۔کینیا میں کیتھولک اور دوسرے عیسائی فرقوں کی طرف سے مذہبی نصاب موجود تھا۔اور ملک بھر کے سکولوں میں پڑھایا جارہا تھا۔لیکن اسلام کے متعلق کوئی ایسا نصاب سکولوں میں رائج نہیں تھا۔مسلمان طلباء دینیات کے پیریڈ میں عیسائیت کی تعلیم حاصل کرتے تھے یا بیکار بیٹھے رہتے تھے۔جو ایک پریشان کن صورت تھی۔مولوی عبد الکریم صاحب شرما نے اس پہلو کی طرف خصوصی توجہ دی۔اور کینیا کے وزیر تعلیم کو لکھا کہ ملکی سکولوں میں اسلام کے متعلق نصاب رائج کیا جائے۔وزیر موصوف نے یہ تجویز منظور کر لی اور احمد یہ مشن سے ہی فرمائش کی کہ وہ پرائمری اور سیکنڈری سکولوں کیلئے اسلامی نصاب تیار کرے۔چنانچہ خدا کے فضل و کرم سے احمد یہ مشن نے دوسرے اسلامی فرقوں کے بھر پور تعاون سے یہ اسلامی خدمت بھی سرانجام دی۔۱۹۶۸ء میں حکومت کینیا نے وراثت ، شادی ، طلاق اور عورتوں کے حقوق کے متعلق چھان بین کرنے کے لئے دو کمیشن مقرر کئے تھے۔اور پبلک کا نقطہ نگاہ معلوم کرنے کے لئے ایک سوالنامہ بھی جاری کیا۔اسلامی نقطہ نگاہ کی وضاحت کیلئے حکومت کی طرف سے احمد یہ مشن کو بھی دعوت دی گئی تھی۔سوالات کے جوابات بھیجوانے کے علاوہ اس دعوت پر مولوی عبدالکریم صاحب شرما نے کمیشن کے رو برو پیش ہو کر شہادت دی اور متذکرہ بالا امور کے متعلق اسلامی نقطہ نگاہ پیش فرمایا۔اسی طرح وراثت کے متعلق قائم کردہ کمیشن کے سامنے مولوی نورالدین احمد صاحب مبلغ کسوموں نے اسلامی نقطۂ نظر کی 98 97 وضاحت کی۔اکتوبر ۱۹۶۷ء سے کینیا مشن کو حکومت کی طرف سے ریڈیو پر دینی نشریات کی اجازت مل چکی تھی۔اور مشن کی طرف سے با قاعدہ ہر جمعہ اسلام پر ایک تقریر نشر ہونے لگی پھر ماہ رمضان میں ( ۳ دسمبر ۱۹۶۷ء تا ۲ جنوری ۱۹۶۸ء) تقریر کے علاوہ روزانہ صبح شام ریڈیو پر سواحیلی میں درس قرآن بھی ہوتا رہا۔ریڈیو پر تقاریر کی سعادت بالعموم کینیا کے مخلص احمدی عثمان کا کوریا صاحب کے حصہ میں آئی۔جنوری ۱۹۶۸ ء کے آخر میں مولوی عبدالکریم صاحب شرمانے کینیا ممباسا، کوالے اور ٹا ویٹا ریجن کا دورہ کیا۔اور احمدیوں کو تربیتی امور کی طرف توجہ دلائی۔عیسائی سرکاری افسران تک اسلام کا پیغام پہنچایا اور سکولوں کے طلباء سے خطاب کیا۔