تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 805
تاریخ احمدیت۔جلد 24 783 سال 1968ء کی اصلاح کریں۔گو ہم کمزور ہیں مگر الہی سکیم کا حصہ ہیں اگر ہم اپنے آپ کو اس کے اعتماد کے اہل ثابت کر دیں تو انشاء اللہ روحانی انقلاب پیدا کر سکیں گے اور اللہ تعالیٰ کی رضا ہمارا انعام ہوگا“۔حضور کا یہ روح پرور پیغام قریشی مقبول احمد صاحب انچارج احمد یہ مشن امریکہ نے پڑھ کر سنایا۔کانفرنس سے خطاب کرنے والے بعض ممتاز مقررین کے نام یہ ہیں۔سید جواد علی صاحب (حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد کے متعلق پیشگوئیاں )۔ڈاکٹر ناصر احمد صاحب خلیل (ذکر حبیب )۔احمد شہید صاحب امیر پٹس برگ اسلامی نظریہ اخلاق اور اس کا حصول )۔بشیر افضل صاحب امیر نیویارک ( حضرت مصلح موعود ) - محمد قاسم صاحب امیر ڈیٹن (اسلام اور مسئلہ نسل )۔قریشی مقبول احمد صاحب ( ہماری گذشتہ تاریخ اور اس کا اثر )۔عبدالرحمن صاحب امیر بالٹی مور (اسلام اور شادی )۔محمد صادق صاحب امیر و وکیگن ( مسیح موعود کے متعلق ویدوں میں پیشگوئی )۔عبدالکریم صاحب امیر شکاگو (پڑوسیوں کے حقوق )۔منیر احمد صاحب امیر سینٹ لوئیس (ترقی احمدیت)۔سلیم احمد صاحب امیر لوئی ول ( محبت اور جماعتی اتحاد )۔کانفرنس کے دوران جماعت احمدیہ کی ذیلی تنظیموں کے الگ الگ اجتماعات ہوئے۔نیز مجلس مشاورت کا انعقاد ہوا۔اس کانفرنس کی خبر اخبار ڈیٹن ڈیلی 54 نیوز میں باتصویر شائع ہوئی۔اخبار ڈیٹن ڈیلی نیوز نے اپنے ۲۷ جون ۱۹۶۸ء کے اداریہ میں اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقدس ناموں کا غیر مناسب رنگ میں استعمال کیا۔جس کے خلاف سید جواد علی صاحب نے زبر دست احتجاج کیا۔اور اللہ اور محمد کے ناموں کا غلط استعمال کے زیر عنوان ایک نوٹ سپرد قلم کیا جو اس اخبار نے ۱۰ جولائی ۱۹۶۸ء کی اشاعت میں دیا۔سید جواد علی صاحب نے اس نوٹ میں لکھا:۔مذکورہ پیرا میں اللہ اور محمدعلی اللہ کے الفاظ ایسے غیر موزوں طور پر استعمال کئے گئے کہ انہیں ایک مسلمان پڑھ کر اس احساس کے بغیر نہیں رہ سکتا کہ لکھنے والا ان لوگوں کے جذبات سے کھیل رہا ہے جو انہیں تمام چیزوں سے زیادہ محبوب سمجھتے ہیں۔اللہ کا لفظ اسلام میں اس کے ذاتی نام کے طور پر استعمال ہوتا ہے جبکہ اس کے دوسرے اسماء اس کی صفات ہیں۔اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسلام کے بانی کا نام ہے اور انہیں مسلمان باقی انبیائے کرام جیسے حضرت عیسی ، حضرت موسیٰ ، حضرت ابراہیم ، حضرت یعقوب علیہم السلام سے زیادہ مقدس گردانتے ہیں۔دراصل ان انبیاء کرام کی سچائی کی تصدیق بھی