تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 791
تاریخ احمدیت۔جلد 24 769 سال 1968ء اپریل ۲۰۰۱ء کو خارج ہو گیا۔اس وقت کو جماعت اسلام آباد کسی طرح پر ضائع نہیں کرنا چاہتی تھی۔سو کام کے آغاز کی منصوبہ بندی جو پہلے سے کی گئی تھی۔اس کے مطابق تعمیر جاری رکھی گئی۔فیر ز میں کام کی تفصیل مندرجہ ذیل تھی : فیز (۱) میں:۔مربی ہاؤس، لائبریری، گیسٹ ہاؤس اور سٹاف کوارٹرز وغیرہ شامل تھے۔جون ۲۰۰۱ ء میں مکمل ہوا۔فیر (۲) میں :۔باتھ رومز ، آفس بلاک اور چار دیواری وغیرہ۔فیر (۳) میں :۔آفس بلاک، مسجد کے مین ہال کو شمال کی جانب بڑھنا، کانفرنس ہال، ڈسپنسری اور کمپیوٹر ہال وغیرہ۔فیر (۴) میں :۔لجنہ کے لئے تین بڑے ہال جنوبی سائیڈ اور ان کے دفاتر۔(یہ CDA نے منظوری میں دو کر دیئے) نیز (۵) میں :۔مردوں کے لئے ہال کی توسیع اور اس میں بیسمنٹ اور ہال۔فیر (۶) میں:۔دوسرے شہروں سے جو طالب علم آتے ہیں ان کی ضرورت کے لئے ہاسٹل بنانا۔ان تمام فیرز کا تخمینہ تقریباً چار کروڑ روپے تھا۔جس کی منظوری حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے از راہ شفقت عطا فرمائی۔۲۰۰۰۔۱۰۔۱۰ کو فیر (۱) کی تعمیر کے کام کا آغاز با قاعدہ دعاؤں اور صدقات سے صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ ربوہ (حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے اپنے دست مبارک سے فرمایا۔اتنے عرصہ بعد جب تعمیر کا کام شروع ہوا تو حفاظتی نقطہ سے قناتیں لگا کر کام کیا جا تارہا۔اس فیز کی تکمیل کے بعد ۲۰۰۔۱۰۔۱۴ کو اس کا افتتاح بھی (حضرت) صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدرانجمن احمد یہ ربوہ (حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ہی فرمایا۔فیروں کی تکمیل کے ساتھ ہی جون ۲۰۰۱ء میں پہلی دفعہ کسی مربی صاحب کی مسجد میں با قاعدہ رہائش کا انتظام ہو سکا۔اس بلاک میں مکرم مربی صاحب کے علاوہ سٹاف کو کوارٹرز کی سہولت بھی دی گئی۔مہمانوں کے لئے گیسٹ ہاؤس اور لائبریری بھی اس کی نمایاں تعمیرات میں شامل ہیں۔تعمیرات کے چھوٹے چھوٹے کام بھی ساتھ جاری رہے جس میں MTA روم Extend کرنا شامل تھا۔