تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 792
تاریخ احمدیت۔جلد 24 770 سال 1968ء ۱۸ فروری ۲۰۰۲ء کو فیر دوم پر کام کا آغاز کیا گیا جس میں باتھ رومز اور دفاتر شامل تھے۔ان کی تکمیل کے بعد ہاتھ رومز کی ایک دیرینہ ضرورت پوری ہوگئی۔اور اس کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ جات کے لئے دفاتر اور تنظیموں کی ضرورت کے لئے دفاتر کی کمی کو بھی کسی حد تک پورا کیا گیا۔فیز تین پر کام کا آغا ز ۱۳ مارچ ۲۰۰۳ء کو ہوا۔اس بلاک میں دفاتر امیر صاحب، ڈسپنسری، کانفرنس ہال اور مسجد کے شمالی ہال کی Extension تھی اس کے ساتھ ساتھ باؤنڈری وال کی بھی Extension کی گئی۔مسجد کے باہر سیکورٹی کے لئے پول نصب کئے گئے نیز حفاظت کے طریق کے مزید بہتر بنانے کے لئے سیکورٹی کیمروں کی تنصیب بھی اس میں شامل تھی۔فیز چہارم کے کام کا افتتاح ۲۰۰۳۔۷۔9 میں محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلیٰ صدر انجمن احمد یہ ربوہ نے فرمایا۔بدقسمتی سے ابھی کھدائی کا کام مکمل ہی ہوا تھا کہ ۲۰۰۳-۱۲-۲۲ کو CDA کی مداخلت پر کام روکنا پڑا کہ نقشوں کی منظوری سے قبل کوئی تعمیر یا Extension نہ کی جائے۔اس سلسلہ میں کافی مشکل پیش آئی۔طویل صبر اور جد و جہد کے بعد CDA نے بالآخر تین سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد نقشوں کی منظوری دے دی۔تمام عارضی روکیں جو اس کام میں حائل تھیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے دور ہو گئیں۔اس بلاک کی سنگِ بنیاد کی تقریب دوبارہ ۲۰۰۷-۶۔۱۷ کو ہوئی۔محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ناظر اعلی صدر انجمن احمدیہ نے اینٹ رکھ کر دعا کے ساتھ اس کام کا باقاعدہ آغاز فرمایا۔اسلام آباد میں صدر انجمن احمدیہ کی ملکیتی دو عمارات اور تحریک جدید کی ایک عمارت ہے جو مقامی جماعت کی زیر نگرانی ہیں۔ان میں سے ایک کا نام ”بیت الفضل“ ہے جو کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی قیامگاہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔قدرت ثانیہ کے تیسرے مظہر حضرت مرزا ناصر احمد صاحب کو اسلام آباد بہت پسند تھا اور حضور سال میں تین چار مرتبہ ضرور اسلام آباد میں رونق افروز ہوتے تھے۔اس وقت مقامی جماعت کے علاوہ دیگر علاقوں اور شہروں سے بھی احباب جماعت والہانہ طور پر اپنے امام کی زیارت و ملاقات اور نمازوں کے لیے جوق در جوق اسلام آباد آتے تھے۔شمع احمدیت کے پروانے شوق دیدار میں کھنچے چلے آتے تھے اور یوں مقامی جماعت کی ذمہ داریوں میں خوشگوار اضافہ دیا ہونے کے علاوہ ایک عید کا سماں ہو جاتا تھا۔مئی ۱۹۸۲ء میں حضور اسلام آباد میں تشریف لا کر رونق افروز تھے۔یہیں بیمار ہوئے اور ۸ ۹ جون کی درمیانی شب کو وصال ہو گیا۔ہجرت سے قبل حضرت