تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 790 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 790

تاریخ احمدیت۔جلد 24 768 سال 1968ء میں چاردیواری تعمیر کی گئی۔اس کی تعمیر کے دوران بہت سی مشکلات سد راہ بنیں۔مگر احباب جماعت کے اخلاص اور جذبہ خدمت کے باعث تمام مشکلات پر قابو پالیا گیا اگر چہ اس میں بہت زیادہ وقت لگا کیونکہ جنوبی جانب ملحق نالہ کے باعث ۲۷۰ فٹ لمبی اور کم و بیش ۱۴ فٹ گہری دیوار بطور پشتہ کے تعمیر کرنا پڑی۔اس کے ساتھ ساتھ مشرقی جانب فوری طور پر عارضی مسجد ، وقار عمل کے ذریعہ تعمیر کی گئی اور بنیا دی اور اصل کام یعنی نماز با جماعت اور نماز جمعہ کی ادائیگی کا سلسلہ شروع کیا گیا۔۱۹۷۶ء میں مکرم لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) عبدالعلی ملک صاحب امیر جماعت منتخب ہوئے۔مسجد کی چھت انہیں کے دور امارت میں ڈالی گئی۔اس میں راولپنڈی اسلام آباد کے خدام وانصار نے تین دن مسلسل وقار عمل کے ذریعہ چھت کا کام مکمل کیا۔مارچ ۱۹۷۶ء میں تعمیر کا کام ایک عدالت کے حکم پر روکنا پڑا۔مارچ ۱۹۷۸ء میں جماعت کی طرف سے اپیل کی گئی۔مستقل مسجد کا کام اگر چہ انتظامیہ کی منظوری سے شروع کیا گیا۔لیکن مخالفین ہر قدم پر مخالفت کے باعث معاندانہ کارروائیاں کر دیتے اور ہر تعمیر کے کام میں روک ڈالتے رہے اس وقت تک جس قدر تعمیر ہو چکی تھی وہ ایک عدالت سے دوسری عدالت کے حکم امتناعی کے وقفہ کے دوران ہوئی۔مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب اور مکرم چوہدری محمد علیم الدین صاحب کی امارت میں بقیہ ضرورت کے لئے تعمیر کے عارضی کام ہوئے ۸۲-۱۹۸۱ء میں مخالفین نے ہائی کورٹ سے Stay Order لے لیا۔جب پہلے اور دوسرے Stay Order کے دوران دو تین روز کا وقفہ ملتا تو بقیہ ادھورے کام مکمل کئے جاتے۔شب و روز کی محنت کے بعد ور انڈہ اور سائیڈ ہالز کی چھتوں کے کام مکمل ہوتے رہے۔۱۹۹۵ ء تک یہ سلسلہ جاری رہا۔اس کے بعد لجنہ ہال کو بڑھایا گیا۔کانفرنس ہال اور اس کے نیچے دو مہمان خانے اور کچن وغیرہ بھی مکمل کئے گئے اور ساتھ ساتھ وقفے وقفے سے دروازے، کھڑکیاں اور شیشے وغیرہ کا کام بھی ہوتا رہا۔مکرم شیخ عبدالوہاب صاحب اور مکرم چوہدری محمد علیم الدین صاحب کی امارت میں بڑھتی ہوئی جماعتی ضروریات کے پیش نظر اس جگہ کو زیادہ سے زیادہ استعمال میں لانے کے لئے نئے سرے سے ایک تعمیر مسجد کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس وسیع تر منصوبہ کے لئے آرکیٹیکٹ اور انجینئیر ز کے مشوروں سے چھ فیروں پر مشتمل ایک ماسٹر پلان تیار کیا گیا۔ان فیزوں میں تعمیر کی تفصیل آگے بیان کی جائے گی۔کافی لمبے عرصے کے بعد مکرم منیر احمد فرخ صاحب کی امارت میں ہائی کورٹس سے Stay Order