تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 742 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 742

تاریخ احمدیت۔جلد 24 720 سال 1968ء درخواست کی کہ وہ احمدیت کو چھوڑ دیں اور ان کے ساتھ چلی جائیں لیکن مرحومہ نے کمال صبر سے یہ تمام تکلیفیں برداشت کیں۔اپنے بھائیوں کی بات کو ہمیشہ رڈ کیا۔امیر حبیب اللہ خان کی وفات پر جب اس کا بیٹا امان اللہ خان تخت نشین ہوا تو افغانستان کے بعض سرکردہ افراد نے اس سے درخواست کی کہ شہید مرحوم کے خاندان کو ان کے آبائی گاؤں سید گاہ واپس جانے کی اجازت دی جاوے چنانچہ ان کی اجازت سے ہم اپنے گاؤں سید گاہ شریف علاقہ خوست میں واپس آگئے۔ایک دو سال کے بعد احمدیوں کے خلاف پھر ایک عام مخالفت کی رو شروع ہو گئی اور اس نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ ایک دفعہ پھر ہمارے خاندان کو بے سروسامانی کی حالت میں اپنے گھروں سے نکلنا پڑا اور علاقہ درگئی میں پناہ لینا پڑی۔اس مخالفت کے طوفان میں ہمارے مکانات ، باغات اور تمام اثاثہ لوٹ لیا گیا، ہمارے گھروں کو آگ لگا دی گئی۔ہمارے دادا حضرت شہید مرحوم کی قیمتی لائبریری کو جس میں ایک اندازہ کے مطابق پانچ ہزار کے لگ بھگ کتا میں تھیں نذر آتش کر دیا گیا۔ہمارے باغات کو جس میں ہزاروں قسم کے پھلدار درخت تھے کاٹ دیا گیا۔چند ماہ کے بعد ہمارے خاندان کے افراد نے یہ فیصلہ کیا کہ اب افغانستان میں ہمارا رہنا ممکن نہیں ہے۔اس لئے ہمیں ہندوستان کے علاقہ میں ہجرت کرنی چاہیئے۔اس فیصلہ کے مطابق ہم ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے لیکن ہمیں راستہ سے ہی پھر واپس کر دیا گیا۔خاندان کے تمام مردوں کو جیل میں ڈالا گیا اور مستورات کو درگئی کے ایک معزز آدمی کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔اس قافلہ میں ہماری تائی صاحبہ مرحومہ بھی شامل تھیں۔چونکہ ان کے بھائی احمدی نہ تھے اس لئے انہوں نے ضمانت دے کر اپنی ہمشیرہ اور بھانجی کو رہا کرا لیا اور ان دونوں کو وہ اپنے ساتھ لے گئے۔کچھ عرصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے جب ہمارے خاندان کے افراد کو رہا کیا گیا تو انہوں نے دوبارہ افغانستان سے ہجرت کا ارادہ کیا۔اس موقع پر مرحومہ نے کمال جرات اور دلیری کا ثبوت دیا۔ان کے بھائی احمدیت کے شدید مخالف تھے۔انہوں نے مرحومہ کو طرح طرح کے لالچ دیئے اور بعد میں ان کو ڈرایا دھمکایا بھی کہ تم ان کے ساتھ نہ جاؤ ورنہ ہم تم سے ہمیشہ کے لئے قطع تعلق کر لیں گے لیکن آفرین ہے اس مجاہدہ پر جس نے ان تمام باتوں کو ر ڈ کیا اور محض احمدیت کی خاطر ہمارے ساتھ افغانستان سے بنوں کا سفر اختیار کیا۔حالانکہ بظاہر اس میں ان کا سراسر نقصان تھا کیونکہ افغانستان میں ہماری جائیداد کا سرسری اندازہ بھی اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آجکل بھی اس کی آمد نوے ہزار روپے سالانہ ہے جبکہ یہاں بنوں میں ہماری زمین کی سالانہ آمد چھ سات ہزار روپے