تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 741
تاریخ احمدیت۔جلد 24 719 سال 1968ء ”ہمارے دادا حضرت شہید مرحوم کی شہادت کے بعد ہمارے خاندان پر جو انقلابات آئے ان میں مرحومہ برابر کی شریک تھیں۔حضرت شہید مرحوم کی شہادت کے فوراًبعد ہمارے خاندان کے تمام افراد کو جن میں بچے بوڑھے اور مستورات شامل تھیں علاقہ خوست سے کابل بلایا گیا۔چنانچہ پچاس کے قریب مسلح سپاہیوں کے پہرے میں ہمارے خاندان کے افراد کابل پہنچے۔خوست سے کابل تک کا فاصلہ تقریباً ۲۴۰ میل ہے اور تمام راستہ خطرناک پہاڑوں سے پُر ہے اور اکثر پہاڑ برف سے ڈھکے رہتے ہیں۔ایسے دشوار گذار اور خطرناک راستے کو طے کرتے ہوئے خاندان کے افراد ایک ماہ کے عرصہ میں کابل پہنچے تھے۔کابل پہنچ کر ہماری حالت اور بھی قابل رحم تھی کیونکہ وہاں پر دو تین سال تک ہمیں سخت مالی پریشانیوں سے دو چار ہونا پڑا۔اس دشوار گزار سفر میں تائی صاحبہ مرحومہ ہمارے ساتھ تھیں۔کابل سے ہمیں پھر ترکستان بھیج دیا گیا۔ترکستان کے راستے کی تکلیفوں اور وہاں کے مصائب کا خیال کر کے اب بھی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔وہاں دوسرے گوناگوں مصائب کے علاوہ سب سے بڑی تکلیف مالی پریشانی تھی۔ایک دولتمند اور صاحب حیثیت خاندان کو اگر ایک دم مالی پریشانی لاحق ہو جائے اور ان کے بچے اور مستورات نان شبینہ کے محتاج ہو جائیں تو اس تکلیف کا احساس ہر ذی شعور انسان کر سکتا ہے۔احمدیت قبول کرنے سے پہلے ہمارے خاندان کا اوڑھنا بچھونا ریشم وکخواب تھا مگر ترکستان میں ان کو سر چھپانےکو بھی جگہ نہیں ملتی تھی۔ایک پرانے سے کھنڈر میں انہوں نے چند ماہ گزارے۔منجملہ دوسرے افراد کے ان میں مرحومہ بھی تھیں جنہوں نے کمال صبر سے یہ مصائب برداشت کئے۔ترکستان سے واپسی پر ہمیں پھر کابل شہر میں رکھا گیا اور ہمارے بڑے چچا صاحب ( مرحوم ) ہر ہفتے تھانے جا کر رپورٹ دیتے تھے کہ ہم سب کا بل میں موجود ہیں۔یہ زمانہ ہمارے خاندان پر نہایت کٹھن تھا۔ہر آن ہماری گرفتاری اور موت کا خطرہ تھا۔ہمارے تایا جان مرحوم صاحبزادہ محمد سعید جان صاحب انہی مصائب کو جھیلتے ہوئے اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور ہماری تائی صاحبہ (مرحومہ) تو جوانی ہی کی عمر میں بیوہ ہو گئیں۔مرحومہ کی سب سے بڑی خوبی احمدیت کے ساتھ گہرا لگاؤ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے خاص عقیدت تھی ورنہ مرحومہ کے لئے اس قسم کے حالات موجود تھے کہ اگر وہ چاہتیں تو اپنے متمول بھائیوں کے ساتھ جا سکتی تھیں۔ان کے بھائی اچھے خاصے دولتمند تھے۔انہوں نے کئی دفعہ مرحومہ سے