تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 743
تاریخ احمدیت۔جلد 24 721 سال 1968ء سالانہ سے تجاوز نہیں کرتی۔۱۹۲۶ء سے لے کر ۱۹۴۴ ء تک ان کی مالی حالت نہایت ہی خستہ تھی لیکن مرحومہ اتنی بلند ہمت اور صبر کرنے والی خاتون تھیں کہ ان کے منہ سے سوائے صبر اور شکر کے کوئی کلمہ نہیں نکلا۔مرحومہ موصیبہ تھیں اور نماز روزہ کی سختی سے پابندی کرتی تھیں۔باقاعدہ تہجد کی نماز پڑھتی تھیں۔ہر وقت خدا اور اس کے رسول کا نام ان کی زبان پر جاری رہتا۔صاحبزادہ احمد لطیف صاحب ابن صاحبزادہ محمد طیب صاحب نے مرحومہ کا ذکر خیر کرتے ہوئے لکھا: کہ مرحومہ کی شادی غالباً ۱۸۹۴ء میں ہوئی۔حضرت شہید مرحوم نے خود اپنے خاندان میں ہی اپنے سب سے بڑے فرزند سے ان کی شادی کرائی۔۱۹۱۸ء میں نظر بندی ہی میں مرحومہ کے شوہر صاحبزادہ محمد سعید صاحب فوت ہو گئے اور مرحومہ کو بیوہ اور تین معصوم بچے (دو صاحبزادیاں ایک بیٹا ) یتیم چھوڑ گئے۔۱۹۰۳ء میں حضرت شہید مرحوم کے ذریعہ بیعت کر کے احمدیت میں داخل ہوئیں اور با وجود سخت نا موافق حالات کے مرتے دم تک نہایت استقامت سے احمدیت پر قائم رہیں۔حضرت شہید مرحوم کی شہادت کے ساتھ ہی افغان حکومت نے ہمارے خاندان کو افغانستان کے دوسرے کونے ترکستان میں بھیج دیا۔ترکستان جانے والے اس قافلہ کی آپ دوسری بزرگ خاتون تھیں جنہوں نے چھوٹوں بڑوں کو ہر گھڑی صبر و استقامت کی عملی تلقین فرمائی۔ہمارا خاندان سات سال کا لمبا عرصہ نظر بندی کی حالت میں ترکستان میں رہا جو مصائب مرحومہ نے خاندان کے ساتھ وہاں برداشت کئے وہ ایک طویل درد بھری کہانی ہے۔مرحومہ بڑے ہی فخریہ انداز میں فرمایا کرتی تھیں کہ اگر احمدیت حق نہ ہوتی تو افغانستان کی اس وقت کی ظالمانہ حکومت میں شہید مرحوم کے بے سہارا خاندان کی مستورات الہی حفاظت میں ہرگز نہ رہ سکتیں۔رب العزت نے تئیس سال تک ان کی غیر معمولی حفاظت فرمائی۔مرحومہ فرمایا کرتی تھیں کہ ترکستان میں سات سال کے عرصہ میں ہم نے لگاتار جو کی روٹی کھائی۔ہمارے معصوم بچے گندم کی روٹی کو ہمیشہ ترستے رہے۔چند بچے تو صدموں کی تاب نہ لا کر فوت ہو گئے۔جب مرحومہ یہ ذکر کرتیں تو بار بار فرماتیں الحمد للہ، الحمد للہ ہم نے صبر سے وہ دن کاٹے۔ہمیں بے حد خوشی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں حضرت شہید مرحوم کی قربانی کے بعد شرمندہ نہیں کیا۔بلکہ ہر قدم پر استقامت اور صبر کا نمونہ دکھانے کی توفیق بخشی۔نماز ، روزہ ، تلاوت قرآن کریم اور دعاؤں میں آپ نمونہ تھیں۔میں نے اپنی زندگی میں اتنا اہتمام نماز کے ادا کرنے میں اور کسی میں نہیں دیکھا۔نہایت عمدہ اور صاف لباس پہنتیں۔نہایت عمدہ