تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 696 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 696

تاریخ احمدیت۔جلد 24 674 سال 1968ء ملازمت کر کے اپنی والدہ صاحبہ اور بہن بھائیوں کی خدمت کا بیڑا اٹھا لیا۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ جب میں ۱۹۰۳ء میں قادیان کیلئے روانہ ہوا تو بٹالہ پہنچ کر اڈہ میں کسی ٹانگہ کی انتظار میں کھڑا تھا۔جہاں مجھے حضرت مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی مل گئے۔وہ بھی قادیان تشریف لے جارہے تھے۔انہوں نے مجھ سے پوچھا بیٹا کہاں جاؤ گے؟ میں نے جواب دیا کہ قادیان تعلیم حاصل کرنے کے لئے جا رہا ہوں۔حضرت مولوی صاحب بہت خوش ہوئے اور انہوں نے مجھے بھی اپنے ساتھ ہی ٹانگہ میں بٹھا لیا۔جب ٹانگہ مسجد مبارک کے چوک میں پہنچا تو حضرت مولوی صاحب مجھے بھی مسجد میں لے گئے اور دروازہ پر دستک دی۔اندر سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود تشریف لائے۔حضور نے دروازہ کھولا تو فرمایا السلام علیکم اور پھر حضور نے فرمایا تشریف رکھئے میں ابھی آتا ہوں۔چند منٹ بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تو آپ کے ہاتھ میں دو پیالے دودھ کے تھے۔ایک پیالہ حضور نے مجھے دیا اور ایک حضرت مولوی صاحب کو دیا اور فرمایا پی لیں۔دودھ پینے کے بعد حضور نے میرے متعلق دریافت فرمایا تو حضرت مولوی صاحب نے تعارف کرایا کہ لڑکا مجھے بٹالہ ملا تھا اور تعلیم کیلئے قادیان آیا ہے۔حضور خوش ہوئے۔اس دن سے حضور کے ساتھ ایسا تعارف پیدا ہو گیا کہ حضور مجھے اچھی طرح سے پہچان لیتے تھے۔کئی دفعہ حضور کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتا اور حضور ہر طرح سے میرا خیال رکھتے۔ملک صاحب کو حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، حضرت سید حبیب اللہ شاہ صاحب اور سید عزیز اللہ شاہ صاحب کے کلاس فیلو ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔بعض اوقات جب یہ بزرگ چھٹیوں میں قادیان سے آتے تو بدوملہی سے آپ کے والد ملک علی محمد صاحب پٹواری گھوڑیوں کا انتظام فرما کران کو رعیہ بھجوا دیتے جہاں حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب قیام فرما تھے۔آپ ۱۹۰۸ء سے لے کر ۱۹۳۱ء تک ایبٹ آباد کے ایک فوجی دفتر میں بطور کلرک ملازم ہو کر بعہدہ انڈین آفیسر ریٹائر ہوئے۔۱۹۴۰ء میں دوسری عالمگیر جنگ کے دوران آپ کو پھر فوج میں بلالیا گیا اور وہاں سے بعہدہ لیفٹیننٹ جنوری ۱۹۴۹ء میں سیالکوٹ سے ریٹائر ہوئے۔آپ نے تقسیم ملک کے بعد حلقہ سول لائنز لا ہور میں کئی سال تک بطور سیکرٹری امور عامہ قابل قدر کام کیا۔حفاظت مرکز میں بھی جبکہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کا دفتر لاہور میں تھا آپ نے کئی سال تک حضرت صاحبزادہ صاحب کا ہاتھ بٹایا۔ملک صاحب صاحب کشف و رؤیا ، شب بیدار اور بلند اخلاق کے مالک تھے۔تبلیغ کا بہت شوق