تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 695 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 695

تاریخ احمدیت۔جلد 24 673 سال 1968ء اس مجلس کی ممبری۔۔۔اتنی بڑی عزت ہے کہ اگر بڑے سے بڑے بادشاہ 38 کو ملتی تو وہ بھی اس پر فخر کرتا ، اور وہ وقت آئے گا جب بادشاہ اس پر فخر کریں گئے۔سرسری جائزہ سے حضرت مولوی فضل الدین صاحب کا ۱۹۲۲ تا ۱۹۲۴ء، ۱۹۲۷ء تا ۱۹۲۹ء، ۱۹۴۳ ء اور ۱۹۴۴ء کی گویا آٹھ مجالس میں شرکت کی سعادت پانے کا علم ہوتا ہے۔آپ کا انتقال و تدفین الفضل اس مئی ۱۹۶۸ء جلد ۵۷ شمارہ ۱۲۰ نے نہایت رنج اور افسوس کے ساتھ یہ خبر شائع کی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی، سلسلہ عالیہ احمدیہ کے قدیم خادم، نہایت پاکباز، بےنفس بزرگ، اور متجر عالم حضرت مولوی فضل الدین صاحب وکیل ۲۹ (هجرت) مئی ۱۹۶۸ء کو اندازاً پچاسی سال کی عمر میں رحلت فرما گئے۔دوسرے روز سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے نماز جنازہ پڑھائی۔جس میں کثیر تعداد میں احباب شامل ہوئے۔مقبرہ بہشتی کے قطعہ صحابہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔حضور انور نے جنازہ کو کندھا دیا اور مقبرہ بہشتی میں قبر تیار ہونے پر حضور نے ہی دعا کرائی۔اولاد 39 (۱) چوہدری صلاح الدین صاحب راولپنڈی۔(۲) چوہدری عمادالدین صاحب کینیڈا (۳) چوہدری شاہد احمد صاحب شمیم۔لندن۔(۴) چوہدری طاہر احمد صاحب جاوید۔پاک نیوی۔(۵) خورشید صاحبہ۔(۶) کشور صاحبہ۔(۷) بشری بیگم صاحبہ اہلیہ منور شیم خالد صاحب۔ت لیفٹیننٹ ملک مظفر احمد صاحب آف لاہور ولادت: ۸۹-۱۸۸۸ء دستی بیعت : ۱۹۰۳ء وفات : ۶ / ۷ جون ۱۹۶۸ء آپ کا اصل وطن دھرم کوٹ رندھا و اضلع گورداسپور ہے۔آپ کی پیدائش بدوملہی ضلع سیالکوٹ میں ہوئی جہاں آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔پھر کچھ عرصہ کیلئے اپنے چچا صاحب کے ہاں ایبٹ آباد چلے گئے۔۱۹۰۳ء میں آپ اپنے والد ملک علی محمد صاحب پٹواری کے حکم سے قادیان چلے گئے اور چھٹی جماعت میں داخلہ لیا اور ۱۹۰۷ء میں وہاں سے میٹرک پاس کیا۔اس کے بعد اسلامیہ کالج لاہور میں داخلہ لیا لیکن ۱۹۰۸ء میں اپنے والد صاحب کی وفات کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکے۔اس لئے