تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 693
تاریخ احمدیت۔جلد 24 671 سال 1968ء جماعت مبائعین کے عقائد صحیحہ نعم الوکیل۔التشریح صحیح۔جواب کلمہ فضل رحمانی اور بہائی مذہب کی حقیقت۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف شدید گندی کتاب شائع ہونے پر ہندو مسلم تعلقات میں بھاری کشیدگی پیدا ہوئی۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی نے وائسرائے ہندلا رڈارون کو ہندو مسلم اتحاد کے بارے مفصل تجاویز پیش کیں۔سر شفیع کی صدارت میں لاہور میں تقریر فرمائی۔شملہ میں چوٹی کے ہندو اور مسلم لیڈروں سے ملاقاتیں کیں۔ابتدا مئی ۱۹۲۷ء میں لاہور میں دوصد معصوم مسلم افراد شہید کئے جاچکے تھے۔آپ نے اس موقعہ پر فوری طور پر بزرگان علی برادران کے بڑے بھائی ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر اعلیٰ مفتی محمد صادق صاحب ناظر امور خارجه و عامه ، مولوی فضل الدین صاحب اور بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی کو بھجوایا۔مسجد احمدیہ میں شعبہ اطلاعات قائم کر کے مقتولین اور ان کے پسماندگان اور زخمیوں کے متعلق اطلاعات حاصل کرنے کا کام پندرہ گھنٹے روزانہ کیا گیا۔حکام سے ملاقاتیں ہوئیں۔زیر حراست مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی اور ان کے اقلاب کو انہوں نے تسلی دی۔احمدی ڈاکٹروں کا زخمیوں کی دیکھ بھال کے لئے ہسپتال جانے کا اہتمام کیا۔مسلم ریلیف کمیٹی کے مطالبہ پرتفصیلی کوائف فراہم کرنے کے لئے (اسلامیہ کالج) کے برکت علی ہال میں دفتر کھولا گیا۔ابتداء میں ہی حضور کے پوسٹر ” فسادات لاہور پر تبصرہ شائع کرنے سے اور اس کی تقلید میں مسلمانوں اور ہندو اور سکھوں کی طرف سے پوسٹر شائع کرنے سے ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشتعل طبائع میں تسکین پیدا ہوئی۔یہ چاروں بزرگان خدمت کے لئے کئی ماہ تک لاہور میں مقیم رہے۔اس ہندو مسلم کشیدگی کا ایک باعث لاہور ہائیکورٹ کے ایک حج کا یہ فیصلہ بھی ہوا کہ:۔حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک گندی کتاب شائع کرنے والے کو قانون کے مطابق سزا نہیں دی جاسکتی“۔ایسے حالات کے باعث مسلمانوں کی انتہائی پسماندگی اور پنجاب ہائیکورٹ کے مسلمان ججوں کی صورت میں کم نمائندگی تھی۔چنانچہ حضور نے پنجاب اور صوبہ سرحد میں ۲۲ جولائی ۱۹۲۷ء کو جلسے منعقد کرنے کی تلقین فرمائی۔تاکہ مسلمانوں میں بیداری پیدا ہو۔ان جلسوں میں یہ قراردادیں منظور کی گئیں کہ اسلام اور حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جو گندہ اور دل آزارلٹریچر شائع ہورہا