تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 692
تاریخ احمدیت۔جلد 24 670 سال 1968ء که مولوی فضل دین صاحب اور محمد احمد صاحب نے دن کو دن اور رات کو رات نہیں سمجھا ، دن رات لگا تار محنت کی ہے۔اللہ تعالیٰ ہی انہیں جزائے خیر دے سکتا ہے پس۔۔۔مجلس ان چاروں احباب کی محنت کے اعتراف کا اور شکریہ کا ووٹ پاس کرے۔پیش ہو کر فیصلہ ہوا کہ واقعی مولوی فضل دین صاحب اور محمد احمد صاحب اور مولوی غلام احمد صاحب نے جس محنت اور جانفشانی سے اس مقدمہ کی پیروی میں کوشش کی ہے وہ خاص طور پر قابل شکریہ ہے۔اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر دے اور آئندہ سلسلہ کی بیش از پیش خدمات بجالانے کی توفیق رفیق بخشے۔ناظر اعلی مجلس کی طرف سے ان ہر سہ احباب کا تحریری شکر یہ ادا کریں۔مولوی فضل دین صاحب خصوصیت کے ساتھ اس شکریہ کے حقدار ہیں۔اسی طرح چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے جس طرح اپنا قیمتی وقت دے کر نہایت قابلیت کے ساتھ مقدمہ کی بحث کی ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ان کی خدمت میں بھی شکریہ کا خط لکھا جائے اور حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کی خدمت میں ان چہار احباب کے لئے دعاؤں کی تحریک کی جائے۔آپ کی علمی و قلمی خدمات آپ اس طبقہ کے علماء سلسلہ میں سے تھے جو سلسلہ اور مخالفین دونوں کے لٹریچر پر گہری نظر رکھتے ہیں۔نئی تصانیف کی منظوری دینے سے پہلے ہمیشہ نظر ثانی کسی عالم سے کرائی جاتی ہے۔آپ کے سپرد بھی بعض دفعہ ایسا کام ہوا مثلاً ایک نہایت تکلیف دہ فتنہ کے اعتراضات کے جواب کے مسودہ کی 34 33 نظر ثانی آپ نے کی۔آپ کے اعلی پایہ کے تحقیقی مضامین آپ کی یادگار ہیں۔چنانچہ بہائیت کے بارے میں تحقیقات کا سہرا آپ کے سر پر ہے۔الفضل میں ستمبر تا نومبر ۱۹۲۷ء میں متعدد اقساط میں ”بہائی مذہب کے چند الہامی معمے اور مئی ۱۹۲۸ء میں بہائیت میں فرقہ بندی" پر آپ کے انمول مضامین درج ہیں۔الفضل ۲ دسمبر ۱۹۲۷ء میں سلسلہ کے بک ڈپو قادیان کی طرف سے حضرت مولوی فضل الدین صاحب کی بہائیت سے گہری واقفیت کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ آپ کے مضامین ” مرزا حسین علی المعروف بہ بہاء اللہ کے دعویٰ مسیحیت پر ایک نظر“ کے نام سے شائع کئے گئے ہیں۔مولوی صاحب کی طرف سے ان میں نہایت ہی شرح وبسط سے روشنی ڈالی گئی ہے۔اور ہر ایک کا ثبوت خودا نہی کی مسلمہ کتابوں سے دیا گیا ہے۔تاریخ احمدیت جلد سوم کے مطابق آپ کی مشہور تصانیف یہ ہیں:۔