تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 691
تاریخ احمدیت۔جلد 24 669 سال 1968ء ریکا رڈ اس محنت اور قابلیت سے تیار کیا کہ دل عش عش کرتا تھا۔آپ کا نام منارہ مسیح کے کتبہ پر ۲۰۷ نمبر پر درج ہے۔27 جناب ملک صلاح الدین صاحب ایم اے مولف اصحاب احمد قادیان کے قلم سے رسالہ البصیرت (بریڈ فورڈ) اگست ۱۹۸۹ء کے صفحہ ۴۴ تا ۴۹ میں حضرت مولوی فضل الدین صاحب کے حسب ذیل حالات و خدمات اشاعت پذیر ہوئے جس میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ :۔حضرت مولوی فضل الدین صاحب سالہا سال تک مدرسہ احمدیہ میں عربی کے مدرس رہے۔صدر انجمن احمدیہ نے یونیورسٹی کی طرز پر مدرسہ احمدیہ کی بعض کلاسوں کا امتحان لینے کا انتظام مقرر کرنے کے لئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اور تین اور بزرگان کو مقرر کیا۔جن میں مولوی صاحب بھی شامل تھے۔پندرہ منتوں میں بھی آپ کو شامل کیا گیا۔1919ء میں آپ افسر صیغہ تھے ای سال صدر انجمن احمد یہ میں نظارتوں کے قیام پر آپ ناظم قضاء مقرر ہوئے۔29 سلسلہ احمدیہ کی مرکزی لائبریری جو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے کتب خانہ ، صادق لائبریری و تشخیز در یویو وقفہ لائبریری کی ہزار ہا بیش قیمت کتب پر مشتمل تھی۔کچھ عرصہ آپ کی زیر نگرانی رہی۔بعض اوقات تبلیغی میدان میں آپ کو بھجوایا جاتا رہا مثلاً آپ اور ایک شخص سکندر آباد تشریف لے 30 گئے جہاں مولوی ثناء اللہ صاحب گئے ہوئے تھے اور تبلیغ کا اچھا موقع نکل آنے کی توقع تھی۔ناظر امور عامه و خارجہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب کی پیش کردہ سالانہ رپورٹ بابت ۲۹ - ۱۹۲۸ء میں مذکور ہے کہ بمقد مہ احمدیہ مسجد شاہجہانپور، ڈسٹرکٹ جج کی عدالت میں دائر شدہ اپیل کے لئے مولوی فضل الدین صاحب مشیر قانونی و مولوی محمد احمد صاحب وکیل کپورتھلہ نے وہاں آٹھ دس دن ٹھہر کر تیاری کی۔عدالت ماتحت کی سماعت کے سلسلہ میں حضرت مولوی ذوالفقار علی خاں صاحب ناظر اعلیٰ نے سلسلہ ذیل کی رپورٹ مجلس معتمدین وصدر انجمن احمد یہ میں پیش کی کہ :۔مقدمہ مسجد احد یہ شاہجہانپور میں مولوی فضل دین صاحب وکیل نے تقریباً ۳ ماہ مسلسل محنت کی ہے اور اسی طرح محمد احمد صاحب پلیڈر نے ایک ماہ چند روز ، اور مولوی غلام احمد صاحب مولوی فاضل نے بھی محنت کی ہے اور چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے مقدمہ میں خوب بحث کی ہے۔سلسلہ کے وقار کو ان حضرات کی کوشش جانکاہ اور محنت عظیم سے بہت نفع پہنچا ہے۔سید مختار احمد صاحب لکھتے ہیں