تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 681
تاریخ احمدیت۔جلد 24 659 سال 1968ء روزانہ چلتا رہا۔جہاں رات ہوئی وہاں ٹھہر گیا۔کبھی سٹیشن پر اور کبھی کمیٹیوں میں۔پاؤں کے دونوں تلوے زخمی ہو گئے تھے خدایا آبرورکھیو میرے پاؤں کے چھالوں کی جب رات بسر کرنے کے لئے کسی جگہ ٹھہرتا تو شدت درد کی وجہ سے پاؤں اپنی جگہ سے ہلا نہیں سکتا تھا۔جب صبح ہوتی تو نماز پڑھتا اور چلنے کیلئے قدم اٹھاتا تو پاؤں اپنی جگہ سے نہیں ملتے تھے ہزار دشواری انہیں حرکت دیتا۔اور ابتداء میں بہت ہی آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا۔اور چند منٹ بعد اپنی پوری رفتار میں آجا تا۔جوتا پہننے کے قابل پاؤں نہیں رہے کیونکہ تلوے چھالوں سے پر تھے۔اس لئے بھی روڑے اور کبھی ٹھیکریاں چھ چھ کر بدن کولر زادیتیں کبھی ریل کی پٹڑی پڑی چلتا۔اور کبھی عام شاہراہ پر اتر آتا۔بڑے بڑے ڈراؤنے راستہ سے گذرنا پڑتا۔ہزاروں کی تعداد میں بندروں اور سیاہ منہ والے لنگوروں سے واسطہ پڑا۔جن کا خوفناک منظر دل کو ہلا دیتا ہے۔علی گڑھ شہر سے گذرا مگر مجھے خبر نہیں کہ شہر کیسا ہے۔اور کالج وغیرہ کی عمارتیں کیسی ہیں۔البتہ چلتے چلتے دائیں بازو پر کچھ فاصلہ پر سفید عمارتیں نظر آئیں۔اور پاس کے گذرنے والے سے صرف یہ پوچھ کر کہ یہ عمارت کیسی ہے اور اس کے یہ کہنے پر یہ کالج کی عمارت ہے آگے چل پڑا۔دہلی شہر سے گذرا اور ایک منٹ کے لئے بھی وہاں نہ ٹھہرا۔کیونکہ میرا مقصود کچھ اور تھا۔وہاں کے بزرگوں کی قبروں کی زیارت میرا مقصود نہیں تھا اس لئے ایک سیکنڈ کے لئے بھی اپنے مقصود سے باہر نہیں ہونا چاہتا تھا۔زخمی پیروں کے ساتھ قادیان پہنچا اور مہمان خانہ میں ٹھہرا۔چند منٹ کے بعد حضرت حافظ حامد علی صاحب نے دودھ کا ایک گلاس دیا۔میری جیب میں پیسے نہیں تھے۔پینے سے انکار کر دیا آخر ان کے کہنے پر کہ خرچ سے نہ ڈریں۔آپ کو پیسے نہیں دینے ہوں گے پی لیا سبحان الله والحمد لله قادیان میں پہلی غذا دودھ ہی ملی۔پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ملا۔حضور حالات دریافت کرتے رہے۔خلیفہ اول نے زخموں کا علاج کیا اور حافظ روشن علی صاحب مرحوم کو تعلیم کے لئے مقرر کر دیا اور بعد میں خود تعلیم دیتے رہے۔مئی ۱۹۰۸ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام لاہور تشریف لے گئے تو بعد میں حضرت خلیفہ اول کو بھی بلوا لیا۔حضرت خلیفہ اول کے ساتھ میں بھی لاہور گیا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے وقت میں دائیں بازو میں کھڑا تھا۔لاہور سے آنے پر باغ میں حضرت خلیفہ اول نے لوگوں سے بیعت لی۔بیعت کے وقت میں حضرت خلیفہ اول کے ساتھ چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا۔حضرت خلیفہ