تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 682
تاریخ احمدیت۔جلد 24 660 سال 1968ء اول نے جو خطبہ پڑھا وہ میرے دماغ میں اب تک گونج رہا ہے۔لاہور سے آتے ہی ایک جلد رسالہ الوصیت کی بھائی صاحب کو بھیج دی۔جس کا جواب بھائی صاحب نے جود یاوہ یہ ہے:۔مجھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور دوسرے انبیاء ایک لڑی میں پروئے ہوئے نظر آتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چھوڑ کر سوائے دہریت کے درمیان میں اور کوئی مقام نظر نہیں آتا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے چند دنوں بعد ایک رؤیا دیکھی کہ مہمان خانہ میں وضوکر رہا ہوں کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت پر بعض نامکمل کتابوں کی بنا پر اعتراض کرنا درست نہیں۔خدا تعالیٰ نے جتنا کام ان سے لینا تھالیا۔کیا اگر قرآن شریف بجائے تمیں سپارے کے کچھ کم نازل ہوتا تو کس کا حق تھا کہ اعتراض کرے کہ اتنا کیوں نازل ہوا۔اتنا کیوں نازل نہ ہوا۔یا یہ کہ تمیں ہی سپارے کیوں نازل ہوئے۔زیادہ کیوں نہ ہوئے۔خدا تعالیٰ نے جتنی ضرورت سمجھی نازل کیا۔اسی طرح خدا تعالیٰ نے جتنا کام ان سے لینا تھا لیا۔چنانچہ چند دنوں بعد میرے بھائی صاحب کا خط آیا کہ یہاں دشمن یہ اعتراض کرتے ہیں اس کا کیا جواب دیا جاوے میں نے اپنی یہی رؤیا لکھ کر بھیج دی۔پٹنہ آنے سے پہلے نانا صاحب ودیگر استادوں سے فارسی کی درسی کتابیں پڑھیں۔پٹنہ آ کر بھائی صاحب سے سکول کی درسی کتابیں پڑھ کر اعلیٰ جماعت میں نام لکھوایا۔جب فورتھ ہائی میں پہنچا تو سالانہ امتحان سے پہلے بیمار ہو گیا۔بیماری ہی میں امتحان دے کر پاس ہوا۔مگر ففتھ ہائی میں بیماری کی شدت کے باعث پڑھ نہیں سکا۔بلکہ شفا خانہ میں زیر علاج رہا۔ایک لمبے عرصہ کے بعد شفاخانہ کے ڈاکٹروں نے بیماری کو لا علاج کہہ دیا۔خدا کی شان اچھا تو ہوا مگر ایک یکہ بان کی دوا سے۔اور بیماری کا کچھ حصہ باقی تھا کہ قادیان کی طرف چل پڑا اور راستہ ہی میں بیماری جاتی رہی۔قادیان پہنچ کر حضرت خلیفہ اول اور دوسرے بزرگوں سے عربی کی کتابی پڑھیں۔مگر علم طب کے قریب نہ گیا۔جس کی وجہ یہ تھی کہ میں نے اپنے دماغ میں علم طب کے ساتھ مناسبت نہیں پائی اور ڈرا کہ مخلوق خدا کی ہلاکت میرے جیسے نالائق کی عاقبت نہ خراب کر دے۔دنیا میں روزی کمانے کے ہزاروں ذرائع ہیں۔خدا جس طرح چاہے گا روزی کا سامان کر دے گا۔چنانچہ خدا تعالیٰ کلر کی کے ذریعہ روزی دے رہا ہے۔آپ حضرت خلیفہ اول اور علماء سلسلہ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد صدر انجمن احمد یہ