تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 680 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 680

تاریخ احمدیت۔جلد 24 658 سال 1968ء کیا؟ میں نے جواب دیا کہ یہاں دشمنوں کے دو اعتراض تھے ایک تو یہ مولوی نورالدین صاحب بہت بڑے عالم ہیں۔ان کی وجہ سے لوگ مرزا صاحب کو مان رہے ہیں۔جس کا جواب ہماری طرف سے یہ تھا کہ ہم تو جانتے بھی نہیں کہ وہ کون صاحب ہیں۔جس طرح ہم نے بیعت کی ہے۔بیعت کرنے میں سب برابر ہیں۔اور دوسرا اعتراض یہ تھا کہ مرزا صاحب نے مولوی نور الدین صاحب سے وعدہ کیا ہے کہ وفات کے وقت تم کو خلیفہ مقرر کر جاؤں گا۔چنانچہ اسی لالچ پر مولوی نورالدین صاحب نے مرزا صاحب کی بیعت کی ہے جس کا جواب ہماری طرف سے یہ تھا کہ یہ کس کو معلوم ہے کہ کون پہلے مرے گا اور کون پیچھے۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت ابوبکر کی مثال دے کر فرمایا حضرت ابوبکر کی طرح میرے بعد بھی ایک خلیفہ ہوگا۔اور وہ بھی اس طرح کہ جس پر کم از کم چالیس احمدیوں کا اتفاق ہو۔پھر ان الفاظ سے زید و بکر کی شخصیت کو باطل کر دیا۔کچھ دنوں بعد جبکہ میں دوسال کی متواتر اور خطرناک بیماری سے پورے طور پر صحت یاب بھی نہیں ہوا تھا کہ میرے دل میں قادیان آنے کا شوق بلکہ جنون پیدا ہوا۔بھائی صاحب نے اصرار کیا کہ قادیان میں خزانہ نہیں رکھا ہوا کم از کم انٹرنس پاس کر کے جانا تا کہ وہاں تکلیف نہ ہو۔والدین غیر احمدی تھے۔الغرض کسی نے زاد راہ نہ دیا۔بیماری کی وجہ سے میرا جسم بہت کمزور وضعیف ہو رہا تھا۔مجھ میں دو چار میل بھی چلنے کی طاقت نہیں تھی مگر خدا نے دل میں جوش ڈال دیا اور حالت صحت سے بدل دی اور پیدل سفر کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔اس وقت میں پٹنہ میں تھا چلتے وقت لوگوں نے مشورہ دیا کہ والدین سے مل کر جاؤ۔مگر میں نے انکار کر دیا کہ ممکن ہے والدہ کی توجہ و فریاد سے میری ثبات قدمی جاتی رہے اور قادیان جانے کا ارادہ ترک کر دوں۔بہر حال میں چلا۔چلتے وقت ایک کارڈ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو لکھا کہ میرے لئے دعا کی جاوے۔میرے حالات سفر یہ ہیں اور ایک کارڈ بھائی صاحب کو لکھا کیونکہ اس وقت وہ دوسری جگہ پر تھے کہ میں جارہا ہوں اگر قادیان پہنچا تو خط لکھوں گا۔اور اگر راستہ میں مرگیا تو میری نعش کا کسی کو پتہ نہ لگے گا۔میں نے سفر کے لئے احتیاطی پہلو اختیار کر لئے تھے اور ریلوے لائن کا نقشہ رکھ لیا تھا (۲) جلدی جلدی چند درسی کتب فروخت کر کے کچھ پیسے رکھ لئے تھے۔تا کہ راستہ میں گدا گری نہ کرنی پڑے۔(۳) کمزور بہت تھا اور مسافت دور کی تھی۔پچاس ساٹھ میل تک ریل پر سفر کیا۔تا کہ اگر صحت ہار دے تو لوٹنے کی ہمت نہ ہو۔اور بجائے واپس ہونے کے آگے ہی آگے چلتا رہوں۔میں برابر تھیں تھیں میل