تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 677
تاریخ احمدیت۔جلد 24 655 سال 1968ء حضرت حکیم محمد رمضان صاحب تلا کو ضلع انبالہ (بھارت) ولادت : ۱۸۸۳ء بیعت : ۱۹۰۲ء وفات :۲ فروری ۱۹۶۸ء آپ نہایت پارسا، پابند صوم وصلوٰۃ اور سلسلہ کے نہایت مخلص بزرگ تھے۔تلاکور میں آپ نصف صدی تک مقیم رہے۔اور صرف آپ ہی کا خاندان تقسیم ملک ۱۹۴۷ء کے بعد احمدی تھا۔آپ کی دو بچیاں اور ایک نواسی قادیان میں بیاہی گئی۔اولاد 12 ا۔بشارت احمد صاحب جو کہ کرنال ہر یا نہ میں مقیم ہیں۔۲۔برکت بی بی صاحبہ مرحومہ زوجہ بشیر احمد صاحب مرحوم آف تلا کو ضلع انبالہ۔۳- صغری بیگم صاحبه زوجه محترم مستری دین محمد صاحب مرحوم در ولیش قادیان۔۴۔منورہ بیگم صاحبہ پاکستان میں ہیں۔۵- اقبال بیگم صاحبہ خرودی ہریانہ میں ہیں۔محترمہ صغری بیگم صاحبہ کا کہنا ہے کہ موصوفہ کی پانچ بہنیں بچپن میں ہی فوت ہو گئی تھیں۔محترم حکیم محمد رمضان صاحب کی قبر تلا کو ضلع انبالہ میں ہے۔حضرت سیدمحمود عالم صاحب سابق آڈیٹر صدرانجمن احمدیہ ولادت : ۱۸۸۹ء دستی بیعت: ۱۹۰۷ء تحریری بیعت : ۱۹۰۵ء وفات: ۲۶ فروری ۱۹۶۸ء حضرت سید محمود عالم صاحب کے قلم سے ان کے خاندانی اور قبول احمدیت اور سکونت قادیان کے حالات درج ذیل کئے جاتے ہیں۔آپ تحریر فرماتے ہیں کہ:۔”میرا آبائی وطن موضع لرسا ڈاکخانہ جہاں آباد ضلع گیا صوبہ بہار ہے۔میرا آبائی خاندان حسینی سید ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ حضرت امام حسین کی اولاد سے ہے۔اس اطراف میں دس بیس کوس تک میرے خاندان کے لوگ پھیلے ہوئے ہیں۔اور سب کے سب اپنے آپ کو سید ہی کہتے ہیں۔میرے قریب کے بزرگوں میں بہت نیک لوگ بھی گزرے ہیں۔میرے نانا صاحب حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج جن کی قبر پاکپتن میں ہے کی اولا د سے تھے۔