تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 678 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 678

تاریخ احمدیت۔جلد 24 656 سال 1968ء میرے خاندان کے لوگ ننھیال ہوں یا ددھیال صاحب جائیداد اور بااثر لوگ تھے۔مگر گردش زمانہ کی وجہ سے دونوں طرف کی جائیداد میں جاتی رہیں۔دادا صاحب کی جائیداد تو اس طرح پر گئی کہ وہ ایک مرتبہ سخت بیمار ہوئے اور زیست کی امید نہ رہی۔ان کی بیماری میں ایک عزیز رشتہ دار نے دادا صاحب کی طرف سے جعلی طور پر ساری جائیداد فروخت کر دی۔مگر دادا صاحب جن کا نام یاور حسین تھا بیماری سے صحت یاب ہو گئے۔اور باوجود جائیداد کے ضائع ہونے کے خاموش رہے کہ مقدمہ کرنے میں ایک عزیز جیل خانہ میں جاتا ہے اور خاندان کی بدنامی ہوتی ہے۔میرے والد صاحب کا نام تبارک حسین تھا جو نیک اور رحم دل طبیعت کے تھے۔ایک رات میں انہیں کے ساتھ سویا ہوا تھا کہ اتفاق سے جب رات کے وقت آنکھ کھلی تو والد صاحب موجود نہ تھے۔والدہ کو آواز دی تو فرمایا وہ اپنے ایک دشمن جسے لوگ نشہ پلا کر فلاں مقام پر قتل کرنے کے لئے لے گئے ہیں، اس کے حال پر رحم کھا کر اس تاریک رات میں تن تنہا اسے چھڑانے کے لئے چلے گئے ہیں۔چنانچہ تھوڑی دیر بعد اپنے دشمن کو اس کے دشمنوں کے پنجہ سے چھڑا کر لے آئے۔والد صاحب کی وفات سے چند دن پہلے میں نے خواب میں دیکھا کہ ان کی قبر کھود نے کے لئے ایک شخص حکیم فضل الرحمان مقرر کیا گیا ہے۔حالانکہ مجھے ان کی بیماری کی خبر بھی نہ تھی۔خواب کے دو تین دن بعد بڑے بھائی صاحب کا خط آیا کہ والد صاحب سخت بیمار ہیں۔چنانچہ اسی بیماری میں والد صاحب فوت بھی ہو گئے۔میری والدہ صاحبہ کا یہ حال تھا کہ ہمیشہ دعا کرتی تھیں کہ خدایا بچوں کو نیک بنانا۔اور اگر ان کے مقدر میں نیکی نہیں تو ان کی بیدینی سے ان کی موت میرے لئے زیادہ پسندیدہ ہے۔جب سے میں نے ہوش سنبھالا اس وقت سے والدین کو صوم وصلوٰۃ کا پابند پایا۔۱۹۰۲ء میں پٹنہ شہر میں پڑھنے کے لئے آیا۔جس جگہ میں رہتا تھا وہاں ایک بزرگ تشریف لائے اور کہنے لگے کہ پنجاب میں ایک بہت بڑا عالم ہے ایک عیسائی اس کی دعا کے مقابلہ میں آیا تھا جو مرگیا۔اس لئے اب کوئی عیسائی اس سے مقابلہ میں نہیں آتا۔مجھے بغیر نام اور کیفیت معلوم ہوئے محبت ہوگئی۔غالبا ۱۹۰۳ء میں میرے بڑے بھائی صاحب جن کا نام محبوب عالم ہے پٹنہ شہر کی طرف جا رہے تھے کہ دو شخص آپس میں کہتے ہوئے گزر گئے کہ پنجاب میں کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔بھائی صاحب سن کر حیران رہ گئے کہ پوچھوں تو کس سے پوچھوں۔کہنے والے تو چلے گئے۔