تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 675 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 675

تاریخ احمدیت۔جلد 24 653 سال 1968ء کر رہے تھے۔اچانک آدمی کی آہٹ ہوئی۔دیکھنے پر معلوم ہوا کہ ایک قد آور چور حضور علیہ السلام کے تنبو کے قریب ہے۔فور اسید احمد نور صاحب جو اس وقت جوان تھے چور کی طرف دوڑے اور چور بھی دوڑ پڑا۔باغ سے کچھ فاصلہ پر سید احمد نور نے چور کو پکڑ لیا۔فورا باقی پہریدار بھی وہاں پہنچ گئے۔چور کے ہاتھ پاؤں وغیرہ باندھ کر باغ میں بٹھا دیا۔صبح ہوئی۔وہ چور حضور کی خدمت میں پیش کیا۔حضور نے زبانِ مبارک سے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو، غریب آدمی ہے۔اس وقت شیخ یعقوب علی صاحب اور حاکم علی سپاہی بھی موجود تھے۔انہوں نے چور کے متعلق حضور کی خدمت میں عرض کی کہ حضور اگر چور کو بغیر سزا دلوانے کے چھوڑ دیا جائے تو یہ پھر آئے گا اور پہلے سے زیادہ دلیر ہو جائے گا۔پھر یاد نہیں کہ حضور نے کیا فرمایا تھا۔میں اس وقت موجود تھا۔اس کے بعد مجھے جلسہ سالانہ پر آنے کا اتفاق ہوا۔دو به یعنی ضلع جالندھر اور ہوشیار پور کے تمام احمدی ایک ہی جگہ ٹھہرے ہوئے تھے۔ہمارے ساتھ چوہدری غلام احمد صاحب رئیس کا ٹھ گڑھ بھی تھے۔رات کو قادیان پہنچے تھے۔کمرہ میں بسترے رکھ کر تمام دوست بیٹھ گئے مگر نصف رات تک کھانا نہ ملا۔لوگ بہت بھو کے تھے اور بار بار چوہدری صاحب مذکور کے پاس شکوہ کرتے تھے کہ ابھی تک کھانا نہیں ملا۔اخیر چوہدری صاحب نے کہا کہ بازار میں جا کر کچھ دودھ پی لومگر اتنی بے چینی پیدا نہ کرو، کھانامل جائے گا۔لوگ کھانے کا انتظار کر کے تھک گئے۔اخیر بہت دوست بھوکے سو گئے۔رات نصف سے زیادہ گذر چکی تھی۔اچانک چند آدمی نمودار ہوئے کہنے لگے کہ حضرت صاحب کو الہام ہوا ہے کہ مہمان بھوکے ہیں ، ان کو کھانا کھلاؤ۔بدیں وجہ لوگ کمروں میں جگا جگا کر کھانا دے رہے ہیں۔ہمارے کمرہ میں بھی چند آدمی کھانا لے کر آئے۔چوہدری صاحب نے تمام دوستوں کو جگا کر کھانا کھلایا۔ہمارے ساتھ چوہدری غلام قادر صاحب سٹروعہ والے بھی تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ کھانا خدا نے جگا کر دیا ہے۔وہ بقیہ ٹکڑے بطور تبرک کہ یہ الہامی کھانا ہے، اپنے پاس سٹر وعہ لے گئے۔سنہ یاد نہیں رہا۔( یہ واقعہ ۱۹۰۷ء کے جلسہ سالانہ کا ہے) آپ فرمایا کرتے تھے کہ ۱۹۰۵ء میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام زلزلہ کی وجہ سے اپنے باغ میں مقیم تھے میں اور میرا چچا زاد بھائی اخلاص خاں مرحوم ہم دونوں حضور کے پہرہ پر مقرر تھے۔جوانی کا عالم تھا۔ہم دونوں پہرہ کی ڈیوٹی خوب دیتے۔تقریباً ڈیڑھ ماہ کے بعد ہم واپس سٹروعہ آ گئے اور اپنے بڑے چازاد بھائی کے ساتھ کھیتی باڑی کا کام شروع کر دیا۔ہمارے علاقہ میں زمین کا بندو بست ہو رہا تھا اور میں بندو بست میں بطور پٹواری کام کرنے لگ گیا۔پٹوار سے دل برداشتہ ہو گیا