تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 644 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 644

تاریخ احمدیت۔جلد 24 622 سال 1968ء اس تقریب پر سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے جو روح پرور اور ایمان افروز پیغام ارسال فرمایا اس کا متن درج ذیل کیا جاتا ہے:۔"بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر پیارے بھائیو! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکان مجھے اس امر سے بیحد مسرت ہے کہ آپ یہاں پر ایک بار پھر خدا تعالیٰ کی باتیں سننے اور ذکر الہی اور نوافل میں دن رات گزارنے کے لئے جمع ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ اس اجتماع میں برکت ڈالے اور اس کے نتیجہ میں محض اپنے فضل سے آپ سب کے اندر ایک نیک تغیر اور پاک تبدیلی پیدا کر دے۔اس طرح کہ آپ واپس جائیں تو وہ نہ ہوں جو اس سے قبل تھے۔بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے اندر ایک نمایاں تغیر محسوس کرتے ہوئے جائیں۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے دو عظیم مقاصد تھے۔اول:۔دنیا میں توحید کا قیام اس طرح کہ اس کے بندے اس کی حقیقی معرفت حاصل کر کے اس کے حضور جھک جائیں۔دوم :۔سیدنا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہواس طرح کہ حضور کی محبت دلوں میں جاگزیں ہو جائے۔اور دنیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود میں گم ہو کر اللہ تعالیٰ کی ہستی میں فنا ہو جائے۔حضور علیہ السلام فرماتے ہیں:۔”میری تمام تر خوشی اسی میں ہے اور میری بعثت کی اصل غرض یہی ہے کہ 140 خدائے تعالیٰ کی توحید اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت دنیا میں قائم ہو۔دنیا آج مادہ پرستی اور دہریت کا شکار ہے اللہ تعالیٰ اس کی نظروں سے اوجھل ہے۔اسے خدا کی طرف متوجہ کرنا اور اسی کے حضور سربسجو دکر دینا بظاہر حالات بیحد مشکل نظر آتا ہے مگر قادر وتوانا خدا کے لئے یہ کام کوئی مشکل نہیں۔اللہ تعالیٰ اگر رجوع برحمت ہونے کا فیصلہ کر لے تو ایک لمحہ میں دنیا اور دنیا والوں کو اپنی مغفرت کی چادر میں چھپالے۔اپنی محبت کی آغوش میں لے لے اور اپنی حقیقی معرفت عطا فرما دے۔