تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 643
تاریخ احمدیت۔جلد 24 621 لاکھ چالیس ہزار روپیہ تک پہنچ جائیں گے۔احمدی زمینداروں کو قرآنی دعا کی تلقین 137۔سال 1968ء ۲۵ /۱ اکتوبر ۱۹۶۸ء کے خطبہ جمعہ میں ہی حضور انور نے فرمایا کہ میرے ذاتی علم میں بعض ! زمیندار ہیں جن کی آمدنیاں دو گنا ، تین گنا، چار گنا یا پانچ گنا ہوگئی ہیں اگر کسی زمیندار کو اب دگنی آمد ہو رہی ہے اور اس زائد آمد سے اس نے اگر پہلے تحریک جدید میں کچھ نہیں دیا تھا تو وہ اب اس چندہ میں کچھ دے اور اگر اس نے پہلے کم دیا تھا تو اب کچھ زیادہ دے دے اللہ تعالیٰ فضل کرے تو ان کی فصلیں بہت اچھی ہو سکتی ہیں اور اس طرح ان کی آمد اور بڑھ سکتی ہے۔اس کے لئے حضور نے تلقین فرمائی کہ:۔”زمینداروں کو چاہیئے کہ وہ اپنے کھیتوں میں جا کر ضرور دعا کیا کریں اور خصوصاً وہ دعا کریں جو قرآن کریم نے سکھائی کہ ماشاء الله لا قوة الا بالله یہ دعا جو قرآن کریم میں آتی ہے یہ زمینداروں اور باغوں کے مالکوں کی دعا ہے۔اگر آپ یہ دعا کریں تو اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ وہ آپ کے مال میں برکت دے آپ کی قربانیوں میں بھی برکت دے اور آپ کی اولادوں میں بھی برکت دے۔ساری برکتوں سے آپ مالا مال ہو جائیں پھر دل میں یہ سوچیں کہ حقیر سی قربانیاں پیش کی تھیں اور ہمارا رب کتنا ہی فضل کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور اس نے کتنے ہی اچھے اور اعلی نتایج انکے نکالے ہیں دل میں تکبر اور ریا نہ پیدا ہو۔138 حضرت خلیفہ اسیح الثالث کا شاہجہانپور کانفرنس کے نام روح پرور پیغام ی۔پی کے مشہور شہر شاہجہانپور میں ۵،۴ نومبر ۱۹۶۸ء کو نہایت کامیاب احمدیہ صوبائی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ڈیڑھ ہزار نفوس نے شرکت کی۔پہلے روز جلسه پیشوایان مذاہب میں غیر مسلم و دیوانوں اور دوسرے روز گوردوارہ سنگھ سبھا میں مولوی بشیر احمد صاحب فاضل اور مولوی شریف احمد صاحب امینی کی تقاریر ہوئیں ، جو بیحد پسند کی گئیں۔یہ کا نفرنس اسلامیہ ہائر سیکنڈری سکول شاہجہانپور کے ہال اور بیرونی میدان میں ہوئی۔دونوں روز صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔لاؤڈ سپیکر کا عمدہ انتظام تھا۔جلسہ گاہ خاطر خواہ طریق پر سجائی گئی تھی۔139-