تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 630
تاریخ احمدیت۔جلد 24 608 سال 1968ء فرمانے کے لئے تشریف لائے۔حاضرین مجلس نے کھڑے ہو کر پُر جوش نعروں کے ساتھ حضور انور کا خیر مقدم کیا۔گیارہ بجگر پینتیس منٹ پر حضور نے اپنی تقریر شروع فرمائی۔حضور نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں ایک نئے زاویہ نگاہ سے آیت استخلاف کی نہایت پر معارف تفسیر بیان فرمائی اور اس ضمن میں خلافت راشدہ اور مجددیت کی اقسام اور ان کے باہمی تعلق کو نہایت اچھوتے رنگ میں واضح فرمایا۔وو اس امر کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ خلافت ثالثہ کے آغاز میں بعض ذہنوں میں اس مسئلہ سے متعلق زبر دست بہیجان پیدا ہو گیا کہ کیا خلیفہ کی موجودگی میں مجدد آ سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر چہ اس سے قبل ۱۹۴۷ء میں حضرت مصلح موعود ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں واضح فرما چکے تھے کہ ” خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے۔اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا ہوتا ہے۔پھر اس کی موجودگی میں مجد دکس طرح آ سکتا ہے؟ مسجد دتو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے“۔بہر حال اس سوال کے جواب سے متعلق سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے ۲۷ اکتوبر ۱۹۶۸ء کو مجلس انصار اللہ مرکزیہ کے سالانہ اجتماع میں ایک معرکہ آراء خطاب ارشاد فرمایا۔جس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریرات کی روشنی میں ثابت کیا کہ آیت استخلاف میں اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ سے مختلف شکلوں میں قیامِ خلافت کا وعدہ کیا ہے۔مجد دیتِ عظمی اور خلافتِ عظمیٰ اب تا قیامت صرف حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل متبع اور کامل امتی ہونے کی حیثیت میں امت محمدیہ کا آخری خلیفہ قرار دیا ہے۔نئی صدی کے سر پر پہلے مجددین کی طرح کسی نئے مجدد کی آمد کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔البتہ خلافت راشدہ اور خلافت آئمہ کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہے گا۔اس لطیف اور بصیرت افروز خطاب کا آخری حصہ درج ذیل کیا جاتا ہے جس میں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے درج ذیل اقتباسات پڑھتے ہوئے اس معاملہ کو نہایت احسن رنگ میں احباب جماعت کے سامنے واضح فرما دیا چنانچہ حضور انور نے اقتباسات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں کہ:۔خدا تعالیٰ اس امت کے لئے خلافت دائمی کا صاف وعدہ فرماتا ہے۔اگر