تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 631
تاریخ احمدیت۔جلد 24 609 سال 1968ء خلافت دائمی نہیں تھی تو شریعت موسوی کے خلیفوں سے تشبیہہ دینا کیا معنی رکھتا تھا چونکہ کسی انسان کے لئے دائمی طور پر بقا نہیں لہذا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ رسولوں کے وجود کو جو تمام دنیا کے وجودوں سے اشرف واولی ہیں خالی طور پر ہمیشہ کے لئے تا قیامت قائم رکھے۔سو اسی غرض سے خدا تعالیٰ نے خلافت کو تجویز کیا تا دنیا کبھی اور کسی زمانہ میں برکات رسالت سے محروم نہ رہے اور پھر یہ آیت خلافت آئمہ پر گواہ ناطق ہے وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُوْرِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصُّلِحُونَ - کیونکہ یہ آیت صاف صاف پکار رہی ہے کہ اسلامی خلافت داعی ہے اس لئے کہ يَرتُهَا کا لفظ دوام کو چاہتا ہے۔وجہ یہ کہ اگر آخری نوبت فاسقوں کی ہو تو زمین کے وارث وہی قرار پائیں گے نہ کہ صالح۔اور سب کا وارث وہی ہوتا ہے جوسب کے بعد ہو۔پھر اس پر بھی غور کرنا چاہیئے کہ جس حالت میں خدا تعالیٰ نے ایک مثال کے طور پر سمجھا دیا تھا کہ میں اسی طور پر اس امت میں خلیفے پیدا کرتا رہوں گا جیسے موسیٰ علیہ السلام کے بعد خلیفے پیدا کئے تو دیکھنا چاہیئے تھا کہ موسیٰ علیہ السلام کی وفات کے بعد خدا تعالیٰ نے کیا معاملہ کیا تو پھر کیونکر ہو سکتا تھا کہ حضرت موسیٰ کے خلیفوں کا چودہ سو برس تک سلسلہ ممتد ہو اور اس جگہ صرف تمہیں برس تک خلافت کا خاتمہ ہو جاوے۔اور دوسری جگہ آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ امت موسویہ میں ہزار ہا خلفاء اس سلسلہ میں پیدا ہوئے۔ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی بھی ہوتا تھا جو تجدید دین کے لئے آتا تھا مثلاً جب موسیٰ علیہ السلام کی امت پھیل گئی تو اس زمانہ میں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنا یا ان کی تربیت کرنا بڑا مشکل تھا۔تو جب بنی اسرائیل مختلف علاقوں میں پھیل گئے اور مختلف قبائل اور گروہوں میں تقسیم ہو گئے تو ان کو خدا تعالیٰ نے اپنے وعدہ اور بشارت کے مطابق سینوار نا تھا ایسی حالت میں چار چار سو نبی کی بھی ضرورت پیدا ہوئی۔جتنے کی ضرورت تھی اور جس رنگ میں ضرورت تھی خدا نے جو وعدہ کیا تھا وہ اس نے پورا کیا کیونکہ وہ سچے وعدوں والا ہے۔