تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 620
تاریخ احمدیت۔جلد 24 598 سال 1968ء انسان ہیں ان کے دل میں ملک کی ترقی اور ناموری کے اسباب مہیا کرنے کی سچی لگن ہے اور انہوں نے اپنی بساط بھر دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا اور جب دنیا نے ان کی اہلیت ، قابلیت اور اعلیٰ سائنسی خدمات کے اعتراف کے طور پر انہیں امن کے انعامی اعزاز سے نوازا تو انہوں نے یہ انعامی رقم بجنسم اپنے ملک میں سائنسی تعلیم کے فروغ کے لئے پیش کر دی۔پروفیسر عبدالسلام اپنی قوم کے پہلے ہی محبوب ہیں ان کے اس ایثار نے ان کو قوم کی نظروں میں عزیز تر کر دیا ہے اور ایک معیار قائم کر دیا ہے کہ بے لوث اور مخلصانہ حب الوطنی کے تقاضے کیا ہیں۔لاکھ ڈیڑھ لاکھ روپے کچھ زیادہ نہیں ہوتے لیکن متوسط طبقے کے لوگوں کے لئے یہ خاصی بڑی رقم ہوتی ہے لیکن اس ایثار نے ہماری قوم کے متمول حضرات کے لئے ایک قابل تقلید مثال قائم کر دی ہے۔امید ہے کہ سائنسی تعلیم کے فروغ کے لئے پروفیسر عبدالسلام کے دئے ہوئے ڈیڑھ لاکھ روپے کچھ ہی دن کے اندر کروڑوں اور اربوں روپے کے تعلیمی فنڈ کی صورت اختیار کر لیں گے اور ہمارے صنعتکار، تاجر علم پرور اور مخیر اصحاب اس کارخیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔114 66 ۳۔شاندار اعزاز اس سرخی کے تحت اخبار آغاز کراچی نے درج ذیل خبر دی کہ صدر کے سائنسی مشیر پروفیسر عبد السلام کو امریکی حکومت نے تمغہ امن دیا ہے اس کے علاوہ انہیں تمہیں ہزار ڈالر کا نقد انعام بھی دیا گیا ہے۔یہ اعزاز بلا شبہ عظیم اعزاز ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان کے اس مایہ ناز فرزند کی خدمات کا اعتراف اب امریکہ میں بھی ہونے لگا ہے۔پروفیسر عبدالسلام بلاشبہ ایک عظیم سائنسدان ہیں اور ایٹمی طبیعات میں ان کی تحقیقات سے خود مغربی ملکوں نے بہت کچھ حاصل کیا ہے۔اس امریکی اعزاز کے پس منظر میں بھی یہ ہی بات نمایاں نظر آتی ہے۔اس کے علاوہ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پروفیسر عبدالسلام سے قبل اتنا بڑا اعزاز کسی ایشیائی سائنسدان کو حاصل نہیں ہو سکا ہے۔اس پر پاکستانی عوام جتنا بھی فخر کریں کم ہے اس سے وہ فرسودہ نظریہ بھی خود اپنی موت آپ مر گیا ہے کہ مشرقی سائنسدان ابھی مغربی سائنسدانوں کے ہم پلہ نہیں ہو سکے ہیں دماغ اور ذہن خدا کی دین ہے اور انسان کی اپنی محنت اس کو اور جلا دیتی ہے۔پروفیسر عبدالسلام عرصہ دراز سے مغربی ملکوں امریکہ اور برطانیہ کی کئی یونیورسٹیوں میں تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں خود پاکستان میں بھی محض ان کی اور ان کے رفیق ڈاکٹر آئی ایچ عثمانی کی کوششوں