تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 621
تاریخ احمدیت۔جلد 24 599 سال 1968ء کی وجہ سے ایٹمی توانائی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی ہوئی ہے لیکن ہمیں اس ضمن میں اور بہت کچھ کرنا ہے یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ایک نامور سپوت کی خدمات کو دوسرے ملکوں میں تو خراج تحسین پیش کیا جا رہا ہے لیکن خود پاکستان میں اس سلسلے میں کبھی کچھ نہیں ہوا۔اس سلسلے میں پروفیسر عبدالسلام ہی تنہا نہیں پاکستان میں اب متعدد ہونہار اور قابل سائنسدان ہیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سب کی خدمات کو سراہا جائے۔اور وقتا فوقتا ان کی ہمت افزائی کی جاتی رہے۔اس کے ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ ملک میں سائنسی اور فنی امور کے بارے میں ایک علیحدہ وزارت قائم کی جائے تاکہ ترقی پذیر معاشرے میں زندگی کے سبھی شعبوں کو سائنس کی جدید تحقیقات اور فنی تکنیک سے مستفید ہونے کا موقع مل سکے ہم ابھی منصوبہ بندی کے اہم مرحلے میں ہی ہیں اس لئے اگر ہم زراعتی صنعتی اور دوسرے شعبوں کو سائنس اور فن کے تجربوں کے مطابق رکھ سکیں تو اس سے ہماری ترقی میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔“ ۴۔ارباب ثروت بھی سوچیں 115 مشرق اخبار نے درج بالا عنوان کے تحت لکھا کہ لی ڈاکٹر عبدالسلام کوئی سرمایہ دار نہیں۔ان کے پاس اگر کوئی سرمایہ ہے تو وہ ان کا علم اور ذوق تجس ہے۔صاحب علم کبھی تنگ دل نہیں ہوتا یہی وجہ ہے کہ پروفیسر عبدالسلام نے اعلان کیا ہے کہ انہیں ایٹم برائے امن فاؤنڈیشن کی طرف سے تمہیں ہزار ڈالر کا جو انعام ملے گا وہ اسے پاکستانی سائنسدانوں کو وظائف دینے کے لئے صرف کریں گے تاکہ وہ اپنا تحقیقاتی کام جاری رکھ سکیں۔یہ رقم ڈاکٹر عبدالسلام اپنی ذاتی ضروریات کی تکمیل پر بھی صرف کر سکتے تھے لیکن انہوں نے قومی ترقی کے مقاصد کو اپنی انفرادی آسائش پر ترجیح دی ہے۔ان کے فکر و عمل کا یہ انداز ہمارے ملک کے 116 ارباب ثروت سے کتنا مختلف ہے۔“ ۵۔روزنامہ ”غریب لائل پور نے لکھا کہ ڈاکٹر عبد السلام ۱۹۵۴ء میں برطانیہ جانے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ریاضی کے سربراہ تھے۔بعد ازاں وہ کیمبرج یونیورسٹی میں لیکچرار مقرر کئے گئے۔۵۶-۱۹۵۴ء تک وہ دو ہفتے امپریل کالج میں گزارتے تھے۔ڈاکٹر سلام اقوام متحدہ کی ایڈوائزری کمیٹی برائے سائنس وٹیکنالوجی کے ممبر ہیں۔ڈاکٹر سلام ہو پلنگ پرائز ، آدم پرائز لیکسول میڈل، اور بگز میڈل حاصل کر چکے ہیں۔