تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 619 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 619

تاریخ احمدیت۔جلد 24 597 سال 1968ء پروفیسر عبدالسلام نے اپنے بیان میں اس توقع کا بھی اظہار کیا ہے کہ ہمارے ملک کے دولتمند افراد آگے آئیں گے اور سائنس کے میدان میں ٹیکنالوجی کی ترقی کی جدوجہد میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں گے۔ملک وملت کو دولتمند افراد سے ایک عرصہ سے یہ توقع رہی ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ توقع ابھی پوری نہیں ہوئی حالانکہ تجارت اور صنعت کے میدان میں دولتمند افراد کی کوئی کمی نہیں ہے۔اس وقت تک سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں ہم نے جو تھوڑی بہت ترقی کی ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارا معیار زندگی کچھ بلند ہوا ہے۔یہ امر بالکل واضح ہے کہ مستقبل میں تجارت وصنعت اور ادویات کی تیاری میں ملک جو ترقی کرے گا اس کا زیادہ تر انحصار اسی امر پر ہو گا کہ ہمارے نوجوان سائنس کے میدان میں کتنی ترقی کرتے ہیں۔ہمیں سائنسی تعلیم وتحقیق کے میدان میں اعلیٰ ساز و سامان اور بہترین سائنسدانوں کی ضرورت ہے اور اس منزل کو حاصل کرنے کے لئے ہمیں بہت سے ایسے فیاض اور وسیع الحوصلہ افراد کی ضرورت ہوگی جن کی راہنمائی پروفیسر عبدالسلام نے کی ہے۔اس سلسلے میں ان بڑے بڑے صنعتکاروں کو آگے آنا چاہیئے جو ٹیکنالوجی کے میدان میں انقلابی دور سے سب سے زیادہ مستفید ثابت ہوں گے۔۲۔مرحبا! پروفیسر عبدالسلام اس خوبصورت عنوان کے تحت اخبار حریت کراچی نے لکھا صدر مملکت کے سائنسی مشیر پروفیسر عبد السلام کو حال ہی میں امریکہ کی ایٹم برائے امن فاؤنڈیشن کی جانب سے تمیں ہزار ڈالر (تقریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ) کا انعام دیا گیا ہے۔اہالیان پاکستان کے لئے ان کے ایک سائنسدان کی خدمات کا بین الاقوامی سطح پر یہ اعتراف یقینا فخر وانبساط کا سبب ہے لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی اس مخلصانہ پیشکش پر ہوئی جو پاکستان کے اس نامور فرزند، پروفیسر عبد السلام نے ملک میں سائنسی تحقیقی کاموں میں امداد دینے کے لئے کی ہے۔پروفیسر سلام نے اعلان کیا ہے کہ وہ یہ انعامی رقم پاکستانی سائنسدانوں کو وظائف دینے میں صرف کریں گے۔پروفیسر عبدالسلام کوئی خاندانی رئیس ، صنعت کاریا تا جر نہیں ہیں۔ان کا شمار اعلیٰ متوسط طبقے میں بھی مشکل سے ہی کیا جا سکے گا۔لیکن وہ پاکستانی عوام کی طرح غریب ہوتے ہوئے بھی فراخدل بلند حوصلہ