تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 607
تاریخ احمدیت۔جلد 24 585 سال 1968ء سے السلام علیکم کہتے جاتے تھے اور حضور زیر لب تبسم فرماتے ہوئے ہاتھ ہلا ہلا کر ان کے سلام کا جواب دیتے جاتے تھے۔105 مری لٹریری سرکل کے زیر اہتمام ایک لیکچر مری لٹریری سرکل کے زیر اہتمام ۱۸ ستمبر ۱۹۶۸ء کو ساڑھے پانچ بجے شام اقبال میونسپل لائبریری میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں مولانا ابوالعطاء صاحب سابق مجاہد بلاد عر بیہ و مدیر الفرقان“ ربوہ نے مسئلہ فلسطین پر ایک نہایت فاضلانہ لیکچر دیا اس کی صدارت مشہور شاعر چوہدری منظور احمد صاحب منظور نے کی۔اجلاس کے آغاز پر لٹریری سرکل کے سیکرٹری جناب بصیر قریشی صاحب ایڈووکیٹ نے حاضرین مجلس سے فاضل مقرر محترم مولانا ابوالعطاء صاحب مدیر ماہنامہ الفرقان ربوہ کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ محترم مولانا ۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۶ء تک فلسطین میں مقیم رہے ہیں اور انہوں نے وہاں پر یہود کی آمد اور مسلمانوں کی بے بسی کو خود مشاہدہ کیا ہے۔مکرم مولا نا صاحب نے اپنی تقریر میں فلسطین نام کی وجہ تسمیہ اور ابتدائی تاریخ کی طرف مختصراً اشارہ کرنے کے بعد معاہدہ بالفور کا ذکر کیا۔جس کی رُو سے برطانیہ نے یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کا بیڑا اٹھایا۔یہود سامراجی طاقتوں کے اشاروں پر فلسطین میں قدم جمانے میں کامیاب ہو گئے۔جب مالدار یہودیوں نے فلسطین کے مسلمان جاگیر داروں کو بنجر اور بے آباد زمینوں کے عوض خطیر رقم پیش کی تو انہوں نے قومی و دینی مفادات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ان کے ہاتھ اپنی زمینیں فروخت کر دیں۔یہودیوں کے بڑھتے ہوئے خطرہ کو دیکھتے ہوئے ایک ممتاز ترین خادمِ اسلام بزرگ نے ہندوستان کے متمول والیان ریاست کو توجہ دلائی کہ وہ مرکز اسلام کو یہود نامسعود کے ہاتھوں در پیش خطرہ سے بچانے کے لئے فلسطین میں زمین خریدیں تا یہودی مسلمانوں کو وہاں سے بے دخل نہ کر سکیں۔لیکن محض انگریزوں کی خوشنودی کی خاطر یہ تجویز قبول نہ کی گئی۔جس کے نتیجہ میں آج عالم اسلام کے سینہ پر اسرائیل کا رستا ہوا ناسور مسلط کیا جا چکا ہے۔مولانانے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا یہود ونصاری سے اسلام اور مرکز اسلام کو در پیش خطرات کا مقابلہ قرآنی ہدایات وارشادات کو اپنا کر ہی کیا جا سکتا ہے۔مسلمانانِ عالم اور خاص طور پر عربوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ خدائی وعدہ کے پیش نظر اعمال صالحہ بجالائیں اور ہر قسم کی سرکشی کو