تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 608
تاریخ احمدیت۔جلد 24 586 سال 1968ء ترک کر دیں آزادی فلسطین کی کوئی تحریک اس وقت تک کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکتی جب تک وہ قومیت اور نسل پرستی کی بجائے اسلام کی وسیع تر اور بابرکت بنیاد پر قائم نہ ہو۔بعد ازاں لٹریری سرکل کے سیکرٹری جناب بصیر قریشی صاحب ایڈووکیٹ نے مولانا صاحب کی سیر حاصل تقریر پر تہہ دل سے شکر یہ ادا کیا۔صاحبزادہ مرزا ا مبارک احمد صاحب کا دورہ مشرق بعید 107 ۱۹۶۸ء میں صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل اعلیٰ تحریک جدید نے (۹ اکتو برتا ۱۶ نومبر ۱۹۶۸ء) مشرق بعید کا نہایت کامیاب دورہ کیا۔اس سفر میں آپ جاپان تشریف لے گئے تا کہ وہاں مستقل مشن ہاؤس کھولنے کا جائزہ لے سکیں اس کے بعد آپ ملائیشیا، سنگا پور اور انڈونیشیا تشریف لے گئے۔انڈونیشیا کے تفصیلی حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ:۔انڈونیشیا میں جاوا اور سماٹرا کے علاوہ بعض اور جزائر میں بھی جماعتیں ہیں اور یہ سب حتی الوسع تبلیغ اور تربیت کے کام میں مشغول رہتی ہیں۔ملیشیا اور انڈونیشیا میں بعض مذہبی اور سیاسی لیڈروں سے بھی ملاقات کا موقع ملا ان میں سے دو کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ان میں سے ایک ڈاکٹر محمد حشی صاحب ہیں جنہوں نے تحریک آزادی میں بہت نمایاں خدمات سرانجام دی تھیں اور جب انڈو نیشیا کو آزادی ملی تو ڈاکٹر صاحب موصوف حکومت انڈونیشیا کے نائب پریذیڈنٹ مقرر ہوئے اور اس عہدہ پر چند سال کام کرتے رہے لیکن ڈاکٹر سوکا رنو صاحب سے بعض اختلافات کی وجہ سے یہ حکومت سے علیحدہ ہو گئے۔یہ علمی آدمی ہیں اور مذہب میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں۔ہماری جماعت کا لٹریچر بھی شوق سے پڑھتے ہیں۔ملاقات کے وقت ڈاکٹر صاحب نے ذکر کیا کہ ہماری جماعت کی طرف سے شائع کردہ تفسیر قرآن انگریزی کی ان کے پاس ایک جلد کے سوا سب جلدیں موجود ہیں اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان کو یہ جلد بھی اگر ہو سکے تو بھجوا دی جائے۔ربوہ واپس آتے ہی ان کو یہ جلد بھجوا دی گئی تھی جو ان کو پہنچ چکی ہے اور اس کی رسیدگی کی اطلاع بھی ان کی طرف سے مجھے مل گئی ہے۔ڈاکٹر صاحب موصوف جماعت کی علمی خدمات کے بھی معترف ہیں اور بہت شوق سے تفسیر کا مطالعہ کرتے ہیں جس کا خود انہوں نے ذکر کیا۔