تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 605 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 605

تاریخ احمدیت۔جلد 24 583 سال 1968ء میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں۔یہ وعدہ ان کو دیا گیا ہے جو اعمال صالحہ بجالاتے یا لاتی ہیں۔اور ایمانی حالت پر پختگی اور ثبات قدم کے ساتھ قائم رہتی ہیں۔اگر آپ میں سے کوئی دنیا سے متاثر ہو کر بے پردگی کی راہوں کو اختیار کرے۔اگر وہ نمائش کے طریق کو پسند کرے اور قناعت اور عاجزی کی راہوں کو اختیار نہ کرے تو اس کے لئے خدا تعالیٰ نے حیات طیبہ کا وعدہ نہیں دیا۔محض احمدی ہو جانا۔محض احمدی کہلا نا محض خود کو احمدی سمجھنا تو کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔یہ دعویٰ بے نتیجہ ہے یہ لیبل بے معنی ہے۔یہ طریق اللہ تعالیٰ کو ناراض کرنے والا ہے۔اسے خوش کرنے والا نہیں۔پس جس حیات کیلئے آپ میں سے ہر ایک کو پیدا کیا گیا ہے یعنی حیات طیبہ (وہ زندگی جو خدا کے سائے میں گزرے) آپ کو چاہیئے کہ آپ اسے تلاش کریں۔آپ اسے حاصل کرنے کی کوشش کریں آپ اسے پائیں اور اگر آپ اسے پالیں تو پھر آپ یقین رکھیں کہ یہ زندگی ان تمام لوگوں کی زندگیوں کے مقابلہ میں جو اس دنیا میں اپنی ساری کوششوں کو ضائع کر دیتے ہیں جو خدا کی طرف رجوع کرنے والے نہیں۔خدا کا قرب پانے والے نہیں۔اس کی رضا کو حاصل کرنے والے نہیں۔ہزار درجہ نہیں۔کروڑ درجہ نہیں ارب گنا زیادہ نہیں بلکہ ان گنت اور بے شمار درجہ بڑی اور اچھی اور حسین اور مسرتوں والی اور لذتیں دینے والی زندگی ہے۔پس آپ اپنے مقام کو پہچانیں اور ان وعدوں کے وارث بنے کی کوشش کریں جو وعدے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپ سے کئے ہیں اور بہت اور عظیم ہیں۔خوش زندگی کے ہیں۔منور زندگی کے ہیں اللہ تعالیٰ کے عضو سے منسوب ہونے والی زندگی کے ہیں ایک ایسی زندگی کے ہیں که ساری دنیا اس پر رشک کرے کہ آپ کو کیا مل رہا ہے۔اور کیا ملنے والا ہے۔حضور انور کا سفر ٹھٹھ مکرم آفتاب احمد بل صاحب حضور انور کے کراچی تشریف لانے کے بعد سفر ٹھٹھہ کا ذکر کر تے ہوئے اپنے ایک مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفہ المسیح الثالث کی معیت میں ٹھٹھہ جانے کا موقع ملا۔وہاں حضور نے مسجد شاہجہان کا معاینہ فرمایا اور اس کے بعد ٹھٹھہ کے مشہور مقابر دیکھنے گئے۔حضور نے مسجد کی تصاویر لیں۔حضرت بیگم صاحبہ وصاحبزادیاں بھی ہمراہ تھیں اور قافلے کے کچھ دوسرے لوگ بھی ہمرکاب تھے۔یہ وہی مسجد ہے جس کی تعمیر کچھ اس طرح ہوئی ہے کہ امام خطبہ اور نماز کے وقت جو کچھ بولتا تھا وہ اتنی بڑی مسجد کے ہر حصہ میں سنا جا سکتا تھا۔چنانچہ حضور نے خود بھی منبر پر کھڑے ہو کر سورہ فاتحہ کی تلاوت فرمائی اور اس کی گونج پوری مسجد میں سنائی دی۔حضور نے اس موقع