تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 604
تاریخ احمدیت۔جلد 24 582 سال 1968ء تشریف لے گئے اور اجتماع کی کارروائی جاری رکھنے کا ارشاد فرمایا۔پروگرام کے مطابق باقی تقاریر ہوئیں اور آخر میں چوہدری احمد مختار صاحب امیر جماعت کراچی نے انعامات تقسیم کئے اور دعا پر سالانہ اجتماع بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔حضرت خلیفہ المسیح الثالث کا لجنہ اماءاللہ کراچی سے خطاب سید نا حضرت خلیفہ المسح الثالث نے دیستمبر ۱۹۶۹ء کو لجنہ اماءاللہ کراچی سے ایک بصیرت افروز خطاب فرمایا۔جس میں حضور نے حیات طیبہ کے قرآنی تخیل کی وجد آفریں تشریح کرتے ہوئے احمدی خواتین کو نصیحت فرمائی کہ حقیقی عزت وہی ہوتی ہے جو انسان اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں حاصل کرتا ہے دنیا کی نگاہیں بدل جاتی ہیں۔اور وہی انسان جو ایک وقت میں معزز سمجھا جاتا ہے یا کہلاتا ہے اسی کو لوگ گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔بڑے بڑے جابر بادشاہ جنہوں نے اپنی ہی قوم کو نہیں بلکہ دنیا کے ایک بڑے حصہ کو اپنی مٹھی میں لے لیا اور بظاہر بڑی شان سے ان پر حکومت کی۔وہ بعد میں ذکر خیر سے یاد نہیں کئے گئے۔مجھے یاد ہے کہ جب ہٹلر عروج پر تھا اور میں آکسفورڈ میں پڑھتا تھا تو کئی بار مجھے جرمنی جانے کا اتفاق ہوا۔وہاں میں نے دیکھا کہ اس کی قوم اسے بڑی محبت اور عزت سے دیکھتی اور یاد کرتی ہے۔لیکن جب اللہ تعالیٰ کی گرفت نے اسے پکڑا تو اوروں کو تو چھوڑ و خود اس کی قوم کی زبان پر اس کے لئے سوائے لعنت کے اور کوئی لفظ نہیں تھا۔غرض دنیا کی فانی اور عارضی عزتیں ایک عارضی وقت کیلئے ایک نا سمجھ اور جاہل آنکھ کو دھوکہ دے سکیں۔لیکن ایسی عزتوں کو حقیقی اور ابدی عزتیں نہیں کہا جاسکتا۔لیکن وہ اخروی زندگی جو اس زندگی کے بعد ان کو ملے گی جن پر اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرے گا اس میں وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ایک ایسی عزت پائیں گے جس پر کوئی زوال نہیں۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کا سچا ہے اور اس کی رحمت اس قدر وسیع ہے کہ ہمارا تخیل بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتا۔اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيوةً طَيِّبَةً (الحل: ۹۸) میں فرمایا ہے کہ کوئی مرد ہو یا عورت جو بھی اعمال صالحہ بجالائے تو اسے اس دنیا میں ایک ایسی حیاۃ طیبہ دے دی جائے گی کہ جس کے نتیجہ میں اسے ایک ایسی بقا ملے گی جس پر فنا نہیں۔اسے خدا کی نگاہ میں ایک ایسی عزت ملے گی کہ وہی حقیقی عزت ہے۔اور اس پر کوئی زوال نہیں۔اور اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے ایسی دولتیں اس کو دی جائیں گی کہ دنیا کی دولتیں اس کے مقابل