تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 573
تاریخ احمدیت۔جلد 24 551 سال 1968ء مسلمان نام کو بھی نہیں ملتا۔مکرم سعید احمد صاحب کی تبلیغ کے نتیجہ میں دو تین سال کے اندر وہاں تین چار ہندوؤں نے اسلام قبول کر لیا۔بعد ازاں مکرم سعید احمد صاحب کے چلے جانے پر کچھ عرصہ تک اس علاقے سے تبلیغی تعلق ٹوٹ گیا۔البتہ نو مسلموں سے بذریعہ خط و کتابت کبھی کبھار رابطہ رکھا جاتا رہا۔پھر وہاں پر وقف جدید کا ایک با قاعدہ مشن ۱۹۶۶ء میں قائم کیا گیا اور اس تمام عرصہ میں یہ تمام نو مسلم خدا تعالیٰ کے فضل سے باوجود مخالفت کے ایمان پر قائم تھے۔یہاں تک کہ پھولپورہ میں جو اچھوت قوم کا ایک گاؤں تھا ایک نو مسلم دوست کے ساتھ ایسا نفرت کا سلوک کیا گیا کہ اس کا مکان گاؤں سے باہر لگ کروا دیا تا کہ گاؤں کی دوسری آبادی بزعم خود اس نو مسلم کے وجود سے نجس نہ ہو جائے۔بہر حال جب یہاں با قاعدہ مشن کے ذریعہ از سر نو کام شروع کیا گیا تو گوابتدائی دو تین سال تک سخت مشکلات در پیش رہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے بالآخر ان لوگوں کے دل ایسے بدلے کہ اسی گاؤں پھولپورہ میں جہاں صرف ایک نو مسلم سالہا سال تک اپنی برادری سے منقطع زندگی بسر کرتا رہا۔اب صرف چند ایک ہندو گھرانے باقی رہ گئے ہیں بقیہ تمام گاؤں خدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمان ہو چکا ہے اور وہ لوگ جو پہلے مسلمانوں کو نجس سمجھ کر اُن کے ساتھ کھانا پینا پسند نہ کرتے تھے اب اپنے ہندو رشتہ داروں کے ساتھ کھانے پینے سے اس بناء پر کراہت محسوس کرتے ہیں کہ وہ بوجہ شرک کی آلودگی کے روحانی اور جسمانی دونوں لحاظ سے ناپاک ہیں۔چنانچہ اس گاؤں میں جہاں کبھی ایک نو مسلم کا بائیکاٹ کیا گیا تھا ایک پانچ سالہ بچی نے اپنے نانا کے گھر کھانا کھانے سے انکار کر دیا اور جب اس سے پوچھا گیا تو بتایا کہ میں اس لئے اس کے گھر کھانا نہیں کھاتی کہ وہ ابھی تک بتوں کی پوجا 80 کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسلام کی تائید میں جو زندگی بخش ہوا وہاں چلائی ہے وہ اب ایک گاؤں تک محدود نہیں رہی بلکہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت وہاں بہت سے دیہات میں نومسلم جماعتیں قائم ہو چکی ہیں۔احمدیت نے اس علاقہ میں جو یہ انقلاب برپا کیا تھا اس کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک غیر احمدی دوست جناب اکرم سرحدی صاحب رقمطراز ہیں کہ پل پورہ ضلع تھر پارکر میں ایک چھوٹی سی بستی کا نام ہے جو تحصیل نگر پارکر سے تقریباً ۱۵میل مشرق کی طرف ریت کی لمبی لمبی ویران چٹانوں میں واقع ہے۔۵ سال پہلے میں نے اس بستی کو دیکھا تھا وہاں گندگی اور بد بو کے سوا کچھ نہیں تھا۔میں منہ اندھیرے وہاں پہنچا تھا۔ہر شے پر موت کی سی