تاریخ احمدیت (جلد 24)

by Other Authors

Page 574 of 963

تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 574

تاریخ احمدیت۔جلد 24 552 سال 1968ء خاموشی طاری تھی۔راستہ میں کبھی کبھار کتے بھونکنے لگ جاتے تھے اور یوں فضا میں کچھ ارتعاش پیدا ہو جاتا تھا۔اس وقت صبح کی نماز کا وقت ہو چکا تھا۔مجھے زور کی پیاس لگی تھی اور وضو کے لئے پانی بھی درکار تھا مگر وہاں تو سب بت پرست ہندو ہی ہندو نظر آتے تھے۔پانی مانگتا تو کس سے؟ اس وقت میرے تصور میں بھی یہ بات نہیں آسکتی تھی کہ کسی روز یہ گندی اور غلیظ بستی جس کو لوگ پل پورہ کہتے ہیں پھول پورہ “ بن جائے گی۔اکتوبر ۱۹۶۷ء میں جب میں دوبارہ پل پورہ پہنچا تو میری حیرت کی کوئی انتہاء نہ رہی کہ وہی پل پورہ جو گندگی اور غلاظت کا مرکز تھا اب پاکیزگی کا مرکز بن چکا ہے۔جہاں کتوں کی آوازیں آتی تھیں وہاں اللہ اکبر اللہ اکبر کی صدائیں کانوں سے ٹکرانے لگیں۔جہاں پینے اور وضو کے لئے پانی تک نصیب نہیں وہاں ایک بڑی کشادہ مسجد تعمیر ہو چکی تھی۔میں نے اپنی آنکھوں سے کافی تعداد میں لوگوں کو نماز پڑھتے بھی دیکھا۔اس کے بعد میں نے اپنے کانوں سے قرآن شریف کی تلاوت سنی۔میرا دل خوشی سے جھومنے لگا اور میرے لب پر ظفر وارثی کا یہ شعر آ گیا ے جو بہاروں سے سجا دیتے ہیں ویرانوں کو یاد کرتا ہے زمانہ انہی انسانوں کو پل پورہ کو بہاروں سے کس نے سجایا ؟ یہاں کے بدنصیب انسانوں کو جن سے کوئی ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں کرتا تھا گلے سے لگانے کے قابل کس نے بنایا ؟ میرے ضمیر نے ان سوالوں کا مجھے ایک ہی جواب دیا اور وہ یہ کہ اس کارِ خیر میں یوں تو بہت سے دوست شامل ہیں مگر اس کا اصلی سہرا موجودہ امام جماعت احمدیہ کے بھائی صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور ان کے رفقائے کار کے سر ہے۔جن کے بلند اخلاق وسیع القلمی اور بے داغ کیریکٹر سے یہاں کے لوگ اور خصوصاً پل پورہ کے عوام متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ان صاحبان نے جو کارنامے یہاں سرانجام دیئے ہیں وہ پل پورہ کی تاریخ کا ایک ایسا نقش ہے جو کبھی نہیں مٹے گا۔مسلمانوں کو جب کبھی اسلام کی تبلیغ واشاعت کی ضرورت پڑے گی تو ایسے وجود ہی کارآمد ثابت ہوں گے۔ان صاحبان نے اپنے کردار، جرات، استقلال اور خداداد ذہانت سے پل پورہ میں وہ مقام حاصل کیا ہے جس پر سارے مسلمان بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔یہاں یہ بات بتانا بھول گیا ہوں کہ میاں طاہر احمد صاحب اور ان کے رفیق عبدالستار ناصر صاحب نے اسلامی تعلیمات کے فروغ کی جو