تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 572
تاریخ احمدیت۔جلد 24 550 سال 1968ء فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کی اختتامی تقریب 78۔یہ کلاس ایک ماہ تک جاری رہنے کے بعد بہت کامیابی اور خیر و خوبی کے ساتھ مورخہ ۳۰ جولائی ۱۹۶۸ء کو اختتام پذیر ہوئی۔اس کلاس کی اختتامی تقریب 4 بجے شام دفاتر صدر انجمن احمدیہ کے لان میں منعقد ہوئی۔کلاس کے طلباء، اساتذہ اور بعض دیگر احباب کے علاوہ از راہ شفقت سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے بھی شرکت فرمائی۔سید نا حضرت خلیفتہ المسیح الثالث نے کلاس کے امتحانات نیز تقریری مقابلہ جات میں اول ، دوم اور سوم آنے والے طلباء میں اپنے دستِ مبارک سے انعامات تقسیم فرمائے۔پھر حضور انور نے طلباء سے خطاب فرماتے ہوئے انہیں قرآنی نور سے حصہ لینے اور قرآنی ہدایت پر بہ دل و جان عمل پیرا ہونے کی تلقین فرمائی۔حضور نے انہیں باور کروایا کہ ہم قرآن کریم کا علم اس لئے حاصل نہیں کرتے کہ ہمیں کچھ علم حاصل ہو جائے بلکہ ہمیں قرآنی نور سے حصہ ملے۔ہمارے لئے عمل کی راہیں روشن ہو جائیں۔اور اس طرح قرآنی ہدایات پر عمل پیرا ہونا آسان ہو جائے۔حقیقی فلاح وہی پاتا ہے جو قرآنی نور سے حصہ لیتا ہے اور دلی تڑپ پورے جوش اور ذوق و شوق کے ساتھ قرآنی ہدایات پر عمل پیرا رہتا ہے۔حضور نے انہیں نصیحت فرمائی کہ وہ محض قرآن کا علم ہی حاصل نہ کریں بلکہ قرآنی نور سے حصہ لینے اور قرآنی ہدایات پر دل و جان کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔اس بصیرت افروز خطاب کے بعد حضور نے ایک دفعہ پھر دُعا کرائی اور اس طرح یہ با برکت کلاس اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعاؤں پر اختتام پذیر ہوئی۔(حضرت ) صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب اور آپ کے رفقائے کار کو خراج تحسین نگر پارکر ضلع تھر پارکر میں ایک دور افتادہ مقام ہے جو تھر کے صحرا کے پر لے کنارے پر واقع ہے۔وہاں پہنچنا خاصہ جان جوکھوں کا کام تھا اس علاقہ میں سب سے پہلے ۱۹۶۳ء میں جماعت احمدیہ کا تبلیغی مشن ایک آنریری معلم مکرم سعید احمد صاحب ڈسپنسر کے ذریعے قائم کیا گیا جن کو صرف اخراجات سفر ادا کئے گئے اور سخت نا مساعد حالات میں انہوں نے وہاں بڑی ہمت سے خود روزی کما کے تبلیغ اسلام کے فرائض سرانجام دیئے۔یہ وہ علاقہ ہے جہاں ہندو آبادی غالب اکثریت میں ہے۔یہاں تک کہ اکثر دیہات میں