تاریخ احمدیت (جلد 24) — Page 571
تاریخ احمدیت۔جلد 24 549 سال 1968ء حضور انور کا پُر معارف خطاب سید نا حضرت خلیفہ المسیح الثالث نے ے جولائی ۱۹۶۸ء کو مسجد مبارک میں نماز مغرب سے قبل فضل عمر تعلیم القرآن کلاس کے طلباء سے پُر معارف خطاب فرمایا جس میں حضور نے طلباء کو نصیحت فرمائی کہ اگر آپ روحانیت میں ترقی کرنا چاہتے ہیں، اگر آپ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر کے قرب الہی کی منازل طے کرنا چاہتے ہیں تو آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ قرآن مجید کی اسی تفسیر سے اور ان قرآنی علوم سے استفادہ کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ ہمیں ملے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فیوض برابر جاری ہیں اور قیامت تک جاری رہیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان فیوض پر بند باندھ کر ان کی نہریں جاری کر دی ہیں اور پہلے جہاں جہاں یہ فیوض نہیں پہنچ رہے تھے وہاں بھی انہیں پہنچانے کا سامان کر دیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بے پایاں فیوض کے نتیجہ میں جو قر آنی علوم ہمیں عطا کئے ہیں وہ ختم ہونے والے نہیں ہیں۔وہ علوم اور ان کی زندہ تاثیرات ہمیشہ ہمیش چلتی چلی جائیں گی اور ہر زمانہ میں دنیا ان سے فیض یاب ہوتی چلی جائے گی۔مثال کے طور پر حضور نے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پُر معارف تحریرات اور ارشادات کی روشنی میں قرآن مجید کی آیت اِنَّ الدِّينَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَام کی نہایت لطیف تفسیر بیان فرمائی اور بتایا کہ اس دعوی کے ثبوت میں کہ اسلام کی روحانی تاثیرات اور انوار و برکات جاری وساری ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے وجود کو پیش کیا اور تمام دوسرے مذاہب کو نشان نمائی میں مقابلہ کی دعوت دی۔یہ دعوت مقابلہ حضور علیہ السلام کے خلفاء کی طرف سے آپ کے وصال کے بعد بھی جاری رہی اور جاری ہے۔حضور نے فرمایا اسلام کی روحانی تاثیرات اور انوار و برکات دکھانے کے لئے میں کھڑا ہوں۔دوسرے مذاہب کا کوئی پیر و مقابل پر آکر دیکھ لے۔حضور نے اسی ضمن میں انگلستان کے لاٹ پادریوں کو مقابلہ کی حالیہ دعوت اور ان کی طرف سے عجز کے اظہار نیز متعد دوسرے تازہ بتازہ نہایت ہی ایمان افروز نشانوں کا ذکر فر مایا۔سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث نے فضل عمر تعلیم القرآن کے طلباء سے اس مندرجہ بالا خطاب کے علاوہ مورخہ ۲۲،۱۵،۱۱،۹ ۲۳ ۲۴ ۲۵ ۲۶ تواریخ کو مسجد مبارک میں بعد از نماز مغرب خطاب فرمایا جس میں حضور انور نے طلباء کو نہایت قیمتی نصائح فرمائیں اور اسی طرح قرآن کریم کی متعدد آیات کریمہ کی تفاسیر بھی بیان فرمائیں۔